• 24News pk

احمد فراز کو پاکستانی عوام سے بے مثال محبت ملی،وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز


اسلام آباد ۔ 25 اگست (24 نیوز پی کے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ میرے والد احمد فراز کو پاکستانی عوام سے بے مثال محبت ملی، انہوں نے اپنے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ رکھا، امن، محبت اور انسانیت ان کی ادبی خدمات اور عملی زندگی کا محور رہا، مجھے ہمیشہ اپنے والد کی شاعری سے رہنمائی ملی ہے، نوجوانوں کو احمد فراز کی شاعری اور تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہئے، لکھنے والوں کو معاشرے کی بہتری کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوںگی، وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی روایات اور اقدار کو یاد رکھتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو شہرہ آفاق شاعر اور ادیب احمد فراز کی 12 ویں برسی کے موقع پر ان کی قبر پر حاضری، فاتحہ خوانی کے میڈیا سے گفتگو اور اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمد فراز کی یاد میں دعائیہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر نے اپنے والد اور شہرہ آفاق شاعر، ادیب و دانشور احمد فراز کی قبر پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر اطلاعات نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی 12 ویں برسی کے موقع پر فاتحہ خوانی کے لئے ایچ ایٹ قبرستان آنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ احمد فراز نے اپنے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں رکھا اور اپنے نظریئے پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ احمد فراز نے ایک منفرد انداز میں اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف منوایا بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے قوم و معاشرے کے لئے ایک پیغام چھوڑا جس پر آج ہمیں عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ احمد فراز کو پاکستانی عوام سے بے پناہ محبت ملی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ محبت ان کی اپنے کام اور مقصد کے لئے جدوجہد اور خلوص نیت کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ امن، محبت اور انسانیت احمد فراز کا محور رہا۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لئے بھی آواز اٹھائی اور پاکستان کو مقدم رکھا۔ ان کی شاعری ایک پیغام دیتی ہے جسے پڑھ کر آج بھی رہنمائی ملتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سول سوسائٹی، میڈیا اور تمام مکاتب فکر کا شکریہ ادا کیا جو خراب موسم کے باوجود احمد فراز کے ساتھ والہانہ عقیدت کے اظہار کے لئے ان کی برسی کے موقع پر قبرستان میں اکٹھے ہوئے۔ اکادبی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر محمد یوسف نے بھی شرکا کا شکریہ ادا کیا اور احمد فرازکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی ادب کا نام آتا ہے احمد فراز کا نام شاعروں ، ادیبوں اور نوجوانوں کے سفیر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر اکادبی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام اپنے ادارے کے پہلے سربراہ اور پاکستان کے شہرہ آفاق شاعر احمد فراز کے لئے دعائیہ نشست میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ احمد فراز خوش قسمت انسان تھے کہ انہیں عوام کی محبت اور شہرت کی بلندیاں ملیں۔ ان کے کروڑوں مداح اندرون اور بیرون ملک موجود ہیں جو ہر سال انہیں اپنی دعائوں میں یاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان شعرا کو احمد فراز کی شاعری سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لکھنے والوں کو معاشرے کی بہتری کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوںگی۔ شبلی فراز نے کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی روایات، اقدار اور مشاہیر کو یاد رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان شعرا اور ادیبوں کو خود انحصاری کے جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو منوانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی سربلندی کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو معاشرہ مزید پستیوں کی طرف چلا جائے گا۔ اکادبی ادبیات پاکستان نے اپنے ادارے کے بانی اور میرے والد احمد فراز کی یاد میں تقریب کا انعقاد کر کے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے۔ میری گزارش ہو گی کہ اکادبی ادبیات اس ادارے کے قیام کے اغراض و مقاصد کا احاطہ کرتے ہوئے منیر نیازی، فیض احمد جیسے شہرہ آفاق شعرا کی کاوشوں اور ان کے ادبی کام کو بھی اجاگر کرے۔ یہ شعرا ہمارے لئے قیمتی اثاثہ ہیں۔ تقریب سے دیگر عصر حاضر کے شعرا اور ادیبوں نے بھی خطاب کیا اور احمد فراز کی شخصیت اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔



Drop Me a Line, Let Me Know What You Think

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved