• 24News pk

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کا جنرل اسمبلی کے ”ورچوئل اجلاس“ سے خطاب


اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ سے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ اور داعش سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ہندو انتہاپسندوں کی دہشت گردی روکنے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے جنرل اسمبلی کے ”ورچوئل اجلاس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا میں پھیل گئی ہے۔ اجلاس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے اقدامات پر سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ القاعدہ اور داعش پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سلامتی کونسل نے بھارت کے ہندوتوا گروپوں سمیت انتہا پسندوں اور فاشسٹ تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں سے کی جانے والی دہشت گردی کو نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والوں پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کیا جارہا ہے جبکہ مقبوضہ علاقوں میں لوگوں پر ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل تنازعہ کشمیر پر اپنی دہائیوں پرانی قراردادوںاور فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 70 برس سے جموں و کشمیر پر غیرقانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے، بھارت کی 9 لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کررہی ہے اور انہوں نے وادی کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے۔ بھارت کشمیریوں اور ملک میں اقلیتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں برسراقتدار بی جے پی۔آر ایس ایس حکومت مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019ءکے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو تنازعہ جموں و کشمیر کا حتمی حل قرار دے رہی ہے، بھارتی حکومت مقبوضہ علاقہ میں کشمیری مسلمانوں کی شناخت ختم اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا جموں و کشمیر کی صورتحال پر ایک سال میں تین بار اجلاس ہوا جس سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تنازعہ جموںوکشمیر کا حتمی تصفیہ باقی ہے۔ منیر اکرم نے سلامتی کونسل کے حقیقی کام کی شفافیت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ زیادہ ترکام اور فیصلہ سازی بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہے۔ پاکستان کے سفیر نے اقوام متحدہ کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اور اس کے ماتحت اداروں خاص طور پر پابندیوں کی کمیٹیوں میں عملی طور پر کھلے پن، شفافیت اور شمولیت کو متعارف کرایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کی قراردادوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بین الاقوامی برادری کی تنازعات کی روک تھام اور تنازعات کے تصفیوں کے لئے کی جانے والی کوششیں ناکام ہونگی اور اس کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی ساکھ اور ہمارے خطے میں پائیدار امن کا خواب بھی داﺅ پر لگ جائے گا۔


Drop Me a Line, Let Me Know What You Think

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved