• 24newspk

بطور کھلاڑی سلیکٹرز کی جانب سے نظر انداز ہونے پر مایوسی ہوئی!


ویب ڈیسک (24نیوزپی کے) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں اپنی کرکٹ کھیلنا قومی پیسرز کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا جہاں کنڈیشنز سپن بائولرز کیلئے زیادہ سازگار تھیں اور اسی وجہ سے انہیں بھی مناسب مواقع نہیں مل سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا لہٰذا ممکن ہے کہ انہیں کچھ میچز مزید مل جائیں لیکن انہیں بطور کھلاڑی سلیکٹرز کی جانب سے نظر انداز ہونے پر مایوسی ہوئی کیونکہ وہی انہیں منتخب نہ کرنے کی وجہ بتا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کیلئے خود کو اب بھی تیار سمجھتے ہیں مگر اس کا انحصار سلیکٹرز پر ہے کہ وہ کسے زیادہ موزوں اور بہتر سمجھتے ہیں۔ وہاب ریاض نے 2008ء میں انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے کے بعد سے اپنے کیریئر کے دوران 27 ٹیسٹ ، 91 ون ڈے اور 36 ٹی 20 میچ کھیلے ہیں۔انہوں نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی سکواڈ میں اپنی شمولیت کے بارے میں بھی کھل کر اظہار خیال کہا۔ وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ اگر میرے بس میں ہو تو میں ضرور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلوں لیکن یہ سلیکٹرز پر منحصر ہے کہ وہ کس کو شامل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خیال میں کون یو اے ای کی کنڈیشنز کے لیے زیادہ بہترین چوائس ثابت ہوگا۔ بحیثیت کھلاڑی آپ جو کچھ کرسکتے ہیں وہی کریں گے اور یہی میرا مقصد ہے اور یہی میں دنیا بھر میں کر رہا ہوں۔

حال ہی میں میں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کھیلی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ میں کس قابل ہوں ،مجھے نہیں لگتا کہ مجھے یہ بات بار بابر ثابت کرنے کی ضرورت پڑنی چاہیئے ، جہاں بھی مجھے کھیلنے کا موقع مل رہا ہے میں اچھی کارکردگی دکھا رہا ہوں ، دیکھتے ہیں کہ سلیکٹرز کے ذہن میں کیا ہے اور کیا وہ چاہتے ہیں کہ میں مستقبل کی ٹیموں کا حصہ بنوں ،یہ ان پر منحصر ہے۔

وہاب ریاض اس وقت ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے کرکٹ ایونٹ کیریبین پریمیر لیگ کھیل رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ پاکستان کے دیگر کھلاڑی بھی مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں ،وہاب ریاض کی سی پی ایل میں عمدہ کارکردگی دکھا رہے ہیں ان کے علاوہ محمد عامر ایونٹ میں سی پی ایل میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں ان دونوں کھلاڑیوں کو اگر ٹیم میں شامل کیا جائے تو ٹیم کی باؤلنگ اور مضبوط ہو جائے گی۔

38 views0 comments