• 24newspk

بلے باز میری باؤنسرز پر بندروں کی طرح ناچتے تھے۔۔ شعیب اختر باؤنسرز مار کر بلے بازوں کو زخمی کیوں

کرتے تھے؟


24نیوز پی کے: لیجنڈری پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے باؤنسرز کرنے پر کھل کر کہا ہے کہ وہ بلے بازوں کو بندروں کی طرح کودتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اپنی رفتار کے علاوہ شعیب اختر کو انتہائی درست باؤنسرز کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ اپنے پورے کیریئر میں انہوں نے اپنی شارٹ پچ ڈلیوری اور باؤنسر سے کئی بلے بازوں کو مارا۔


بھارتی ویب سائٹ سپورٹس کیڈا سے بات کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ میں نے باؤنسرز سے بھرپور بولنگ کی کیونکہ بلے بازوں کو بندروں کی طرح چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا، میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتا تھا، میں بلے بازوں کو سر پر مارنا چاہتا تھا کیوں کہ میرے پاس رفتار ہے، یہ ایک تیز رفتار گیند باز ہونے کا فائدہ ہوتا ہے۔


شعیب اختر جنہیں راولپنڈی ایکسپریس کا نام دیا جاتا ہے، محسوس کرتے ہیں کہ باؤنسر کرنا تمام تیز گیند بازوں کے خون میں شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آپ کے جسم میں ایڈرینالین دوڑ رہی ہے، بال اڑ رہے ہیں، دل کی دھڑکن 185 سے زیادہ ہے، آپ یقیناً آگے باؤلنگ نہیں کریں گے، آپکا بال بلے باز کے جسم پر لگنا چاہیے، جسم پر سوجن نظر آنی چاہیے، بلے باز جب بھی خود کو آئینے میں دیکھے، اسے مجھے یاد کرنا چاہیے۔


یہ سچی محبت ہے۔واضح رہے کہ 46 سالہ شعیب اختر نے 1997ء سے 2011ء کے دوران 224 انٹرنیشنل گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 444 وکٹیں حاصل کیں۔


24NewsPK: Legendary Pakistani fast bowler Shoaib Akhtar has openly said on bouncers that he wants to see batsmen jumping like monkeys.

Apart from his speed, Shoaib Akhtar was known for making extremely accurate bouncers. Throughout his career, he hit many batsmen with his short pitch delivery and bouncer.


Speaking to Indian website Sports Cada, Shoaib Akhtar said, "I bowled full of bouncers because I was happy to see batsmen jumping like monkeys. I did not want to lie. I bowed to the batsmen." But I wanted to hit because I have the speed, that's the advantage of being a fast bowler.



Shoaib Akhtar, also known as Rawalpindi Express, feels that bouncing should be in the blood of all fast bowlers. More than that, you will definitely not bowl further, your hair should be on the batsman's body, the body should look swollen, whenever the batsman looks at himself in the mirror, he should remember me. This is true love. Shoaib Akhtar, 46, represented Pakistan in 224 international games between 1997 and 2011 and took 444 wickets.

35 views0 comments