• 24Newspk

حضرت عباد بن بشررحمۃاللہ علیہ کا واقعہ



عباد بن بشر ؒ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے تھے۔وہ اپنی عبادت ،علم اور جنگ میں اپنی ہمت اور جذبے کی وجہ سے جانے جاتے تھے وہ ہمیشہ قرآن مجید کو بےتابی سے پڑھنا پسند کرتے تھے اور اپنی تلاوت کے لئے جانے جاتے تھے وہ ایک بہادر آدمی تھے اور قرآن مجید کا ان کے دل میں خاص مقام تھا۔عباد ؒ کی بہادری اور قرآن کی طرف جو ان کا احترام تھا اسی کے بارے میں یہ واقعہ ہے۔


ایک بار پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت ایک وادی میں قیام پذیر تھے یہ وہ وقت تھا جب پیغمبر کے دشمنوں نے ان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف تھا کہ نماز کے دوراان آدمی ان پر حملہ کریں گے انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صفوں میں ترتیب کیا اور انہیں دو جماعتوں میں تقسیم کیا اور صلواۃ الخوف کی نماز ادا کی. ایک جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی جبکہ دوسر جماعت پہرے پر تھی ،دوسری جماعت میں جماعتیوں نے جگہ کو بدل دیا ہر جماعتی نے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نماز ادا کی۔اس کے بعد پیغمبر اس جگہ سے باحفاظت روانہ ہوئے واپس جات وقت پیغمبر نے رات بسر کرنے کے لئے وادی میں ڈیرے لگائے جیسے مسلمانوں نے اپنے اونٹوں کو بٹھایا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آج رات ہمارا محافظ کون ہوگا؟ہم کریں گے اے اللہ کے رسول۔عباد ابن بشر اور عمار بن یاسر نے کہا دونون بھائی تھے خیمے کے حفاظت کی زمہ داری عباد ؒ کی تھی رات کے وقت ان کی مدد لئے ان کے بھائی عمار بن یاسر بھی موجود تھے عباد ؒ اور عمارؒ اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئےوادی کے معانے کے لئے روانہ ہوگئے دیر رات عباد رحمتہ اللہ عیلہ نے اپنے بھائی کو بہت تھکا ہوا پایا اور محسوس ہوا کہ اس کے بھائی کو کچھ نیند کی ضرورت ہے تو انہوں نے ان سے پوچھا میرے بھائی عمار آپ رات کے کس حصے میں سونا چاہتے ہیں پہلے یا دوسرے؟انہوں نے جواب دیا کہ میں پہلے پہر سونا چاہوں گا وہ یقینی طور پر بہت تھکے ہوئے تھے عباد راضی ہوگئے اور انہون نے اپنے بھائی کو کچھ دیر سونے کا کہا۔


رات صاف پرسکون اور پر امن تھی ستارے درخت اور سارے پتھر اپنے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے خاموش نظر آئے عباد ؒ کو سکون محسوس ہوا کوئی حرکت نہیں تھی کوئی دھمکی آمیز نشان نہیں تھا انہوں نے پھر اپنے آپ سوچا کہ میں قرآن کی تلاوت میں وقت کیوں نہیں لگاتا اور اسی رات کی خاموشی میں نجد کی وادی کے مہانے پرکھڑے ہوکر قبلے کی طرف منہ کرکیا خدا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے اشارے کے طور پر ہاتھ اٹھا کروہ دعا کی حالت میں داخل ہوئے قرآن کے لازمی حصے کے آغازکو ختم کرتے ہوئے انہوں نے اپنی پیاری دلکش آواز میں سورہ الکہف کی تلاوت کرنا شروع کردیا۔سورہ الکہف 110 ایتوں کی لمبی سورہ ہے جو ایمان سچائی اور صبر کی خوبیوں سے جڑی ہوئی ہے اندھیرا تھا اور دشمن ان کو دور سے دیکھ رہا تھا وہ آدھی رات کے دوران پیغمبر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔انہوں نے عباد ؒ کو وادی کے کنارے کھڑے ہوکر دعا کرتے ہوئے دیکھا ان میں ایک نے کمان کو باہر نکالا جس کا نشانہ عباد ؒ تھا اور اس نے اس کی طرف تیر چلایا عباد قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے تیر نے ان کے جسم کو چیر دیا جب خون بہہ رہا تھا تب بھی انہوں قرآن پڑھنا نہٰیں چھوڑا انہوں نے تیر نکالا اور اپنی دعا جاری رکھی اس کے بعد دشمن نے ان پر دو تیر اور پھینکے انہوں نے تب بھی اپنی تلاوت کو نہیں روکا انیوں نے دونوں تیر باہر نکالے اور آہستہ آہستہ اپنی تلاوت پوری کی وہ زمین پر پڑے تھے اور ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا اور پھر اپنے بھائی کو جگایا اور بتایا کہ کیا ہوا عمار ؒ ان کو زخمی دیکھ کر حیران رہ گئے وہ کودے اور چلانے لگے جب دشمنوں نے یہ دیکھا تو وہ بھاگ گئے عمار ؒ نے اپنے بھائی سے پوچھا کہ جب دشمن نے پہلا تیر مارا تھا تو انہوں نے کیوں انہیں کیوں نہیں جگایا تو عباد ؒ نے جواب دیا میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا جس نے میری روح کو سکون سے بھر دیا اور میں تلاوت کو روکنا نہیں چاہتا تھا لوگون کو ان تلاوت اتنی پسند تھی کہ وہ ان کو دوست قرآن کریم کہتے تھے ۔


ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیوی عائشہ کے گھر نماز کے لئے کھڑے ہوئے جو مسجد کے بہت قریب تھا تبھی انہوں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے آواز سنی یہ اتنا پیارا اور پاکیزہ تھا جیسے فرشتے جبرائیل نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر الفاظ طاہر کیے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت سنی اور حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا یہ عباد ابن بشر کی آواز ہے؟انہوں ان کی تصدیق کی کہ واقعی ان کی آواز تھی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کے قرآن پاک کے طریقہ کار سے متاثر ہوئے عباد واقعی پیغمبر کے لئے بھی عقیدت مند تھے جب انہوں نے قرآن پاک کی پہلی بار تلاوت سنی تن عباد 15 سال کے تھے اس کی تلاوت موسی بن عمر نے کی تھی جنہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگون کو تعلیم دینے کے لئے بھیجا تھا جوان عباد ان کی تلاوت سے متاثر ہوئےعباد ان وعقیدت مندوں میں سے ایک تھے جن کا دل اللہ نے خیر کے لئے کھول دیا پیغمبر نے جو بھی جنگ لڑی اس میں عباد سامنے کی صف میں تھے اور وہ بہادری سے لڑے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ عباد ؒ اپنے پورے دل و جان سے پوری طرھ سے سرشار تھے اور اس ظرح پیغمبر کے ساتھ بن گئے ۔ یمانوں کی لڑائی کے دوران ایک شہید کی طرح ان کا انتقال ہوا،مرنے سے پہلے انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا اگلے دن انہون نے اپنے دوستوں کو خواب کے بارے میں بتایا کہ گزشتہ رات مین نے خواب دیکھا جس میں آسمان میرے لئے کھل گیا تھا پھر بند ہوکر میرے اوپر آگیا انشااللہ اس کا مطلب ہے میری موت ۔اگلے ہی دن جنگ میں وہ دشمن کے ہاتھوں شہید ہو گئے وہ خواب جو انہوں نے دیکھا تھا وہ اس کی تعبیر پوری گئی تھی۔


جنت کے دروازے عباد ؒ کے جذبے کے استقبال کرنےکے لئے کھل گئے وہ ایک ایسے آدمی تھے جن کے پاس اللہ کا نور تھا وہ واقعے ہی اللہ کے لئے جینے اور مرنے کے لئے خوش قسمت تھے وہ ہمیشہ دشمن کا سامنا کرتے ہوئے سامنے کی صف میں موجود رہتے وہ ہمیشہ مسلمانوں کی دولت کے معاملات میں قابل اعتبار رہے

28 views

Subscribe to 24Newspk 

Contact us

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved

  • Facebook
  • Twitter
  • YouTube