• 24Newspk

حکومت سندھ کے دونوں تحقیقاتی ادارے غیر فعال۔ جس کا فائدہ نیب اٹھا رہی ہے


کراچی: جب سے وفاقی حکومت نے نیب کو سرگرم کیا ہے تو حکومت سندھ نے بھی محکمہ انٹی کرپشن کو فعال بنا کردیا تھا ۔اور کچھ انکوائریوں کا اختیار وزیراعلیٰ کی انپیکشن ٹیم کو بھی دیا گیا تھا ۔ لیکن بد قسمتی سے پچھلے 2 ماہ سے وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم اور محکمہ اینٹی کرپشن کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے کیونکے دونوں محکموں کے چیئرمین موجود نہیں ہیں ۔وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کے چیئرمین ایڈشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمّد عثمان چاچڑ کو اضافی چارج دیکر بنایا گیا تھا ۔ جبکہ اینٹی کرپشن کے چیئرمین محمّد وسیم تھے انکو تبادلہ کرکے منصوبہ بندی اور ترقیاتی بورڈ کا چیئرمین بنادیا گیا تھا ۔تاحال عملی طور پر دونوں اداروں کے چیئرمین نہیں ہے اضافی چارج سے کام لیا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کے پاس 1600 کے قریب موجود ہیں اور محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس 4 ہزار انکوائریاں زیر التواء ہیں ۔اس صورت حال سے نیب نے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر سندھ کے مختلف محکموں میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے کئی محکموں تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ پچھلے دو ماہ سے اینٹی کرپشن کمیٹی نمبر 1جوکہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ہوتی ہے اس کا کوئی اجلاس نہیں ہوا ۔محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس بھی 1200 کے قریب مختلف شکایات درخواستیں جمع ہوگئی ہیں کیونکے انکے بارے میں حتمی فیصلہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اینٹی کرپشن کمیٹی 1 ہی کرتی ہے جوکہ عملی طور طور پر غیر فعال ہے اس صورت حال میں جو مالی بےقائدگیوں میں ملوث سرکاری افسران خوش ہوکر مزے اڑاتے دنددناتے آرام سے گھوم رہے ہیں کیونکے انکی انکوائریاں ہو نہیں رہی ۔جب کے اس سے نیب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا تحقیقاتی نظام تیز کردیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کے حکومت سندھ نیب کو زیادہ فعال دیکنا چاہتی ہے یا اپنے دونوں تحقیقاتی اداروں کو فعال کرتی ہے ۔

Subscribe to 24Newspk 

Contact us
  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved