• 24newspk

سات سالہ معصوم آمنہ چیزوں کی دوکان پر چیز لینے گئی تواس نے کس طرح وحشی نظروںسے اپنی جان بچائی


_*معصوم عصمتیں*_ انکل انکل مجھے یہ گرین والی سلانٹی دیدیں سات سالہ معصوم آمنہ چیزوں کی دوکان پر چیزوں کیلئے بنائے گئے شوکیس پر ہاتھ ٹکائی کھڑی تھی ،بیٹا آپ ایسا کرو یہاں اندر آکر لے لو یہاں سے آپ کو باقی چیزیں بھی دکھیں گی آپ جو چاہو لے لینا اظہر دوکان والے نے اپنی غلیظ نظریں اس معصوم بچی پر گاڑتے ہوئے کہا جی انکل ٹھیک ہے بھولی صورت لئے وہ بچی فورا دوکان کے اندر جا گھسی بچی اپنی آنکھوں کو پٹپٹاتے ہوئے دوکان کے اندر رکھی مختلف چیزوں کو دیکھنے میں مصروف تھی کہ اچانک اسے احساس ہوا کہ جیسے کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا ہو

انکل مجھے جلدی سے یہ سلانٹی دے دیں پھر میں گھر جاؤں آمنہ نے ہاتھ پیچھے کیا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑا نوٹ دوکاندار کو تھمانے لگی،جی جی بیٹا دیتا ہوں آپ یہاں تو آؤ وہ دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑنے لگا لیکن آمنہ نے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کیا اسے اپنی کلاس ٹیچرفاطمہ کی کہی بات یاد آئی بچو کوئی بھی دوکاندار یا باہر کے انکل اگر آپکا ہاتھ پکڑیں یا آپکو اپنے پاس بلائیں تو وہاں ایک منٹ بھی رکنا نہیں ہے بلکہ فورا وہاں سے بھاگ جائیں اور گھر واپس آجائیں اور ہاں گھر آکر لازمی مما کو یہ بات بتانی ہے اس بات کے ذہن میں آتے ہی اس کی تمام حسیات بیدار ہوچکی تھیں۔دوکاندار اظہر کا ہاتھ دوبارہ اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ وہاں سے تیز قدموں کے ساتھ واپس باہر نکلی اپنا نوٹ وہیں چھوڑ کر وہ پیچھے دیکھےبغیر بس بھاگتی جا رہی تھی گھر کے دروازے تک پہنچتے ہی اس نے زور سے دروازہ پیٹا مما ماما آمنہ تیز سانسوں کے ساتھ اس سے کچھ بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔بولو آمنہ بیٹی کیا ہوا آپ تو چیز لینے گئیں تھیں نا پھر کیا ہوا آپکا سانس اتنا پھولا ہوا کیوں ہے آمنہ کی والدہ نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر گلے لگاتے ہوئے پوچھا وہ اسکو پر سکون کرنے کیلئے اسکی کمر بھی سہلا رہی تھیں

مما وہ دوکان والے انکل ہیں نا وہ آمنہ اب بھی گھبرائی ہوئی تھی کبھی دروازے کی طرف دیکھتی تو کبھی اپنی ماں کی طرف بولو میری بچی بتاؤ مجھے کیا بات ہے۔ماں آمنہ کی حالت دیکھ کر پہلے ہی سمجھ گئیں تھیں لیکن پھر بھی آمنہ سے پوچھنا چاہتی تھیں کہ اس دوکاندار نے کیا کیا تھا ۔مما انھوں نے پہلے مجھے دوکان کے اندر بلایا پھر میرا ہاتھ بھی پکڑا میں نے چھڑوایا تو دوبارہ پکڑنے لگے پھر میں بھاگ کر گھر آگئ اس کی آنکھیں گزرے واقعے کو یاد کرکے بھیگنے لگی تھیں ۔آپ یہاں بیٹھو پہلے پانی پیو پھر سکون سے میری بات سنو عقلمند عورت تھیں جانتی تھیں معاشرہ نہیں بدل سکتیں باہر موجود بھیڑیوں کی نگاہیں نہیں نوچ سکتیں ہوس کے پجاریوں کے گند میں ڈوبے ہاتھ نہیں توڑ سکتیں لیکن اپنی بچی کو تربیت دے سکتیں ہیں اسے ان راستوں سے دامن بچا کر چلنے کے طریقے بتاسکتی ہیں وہ جانتی تھیں انہیں اپنی معصوم عصمت کی حفاظت خود کرنی ہے اس لئے انھوں نے اپنا کام شروع کیا آمنہ عمران سب سے پہلی بات آج کے بعد آپ باہر اکیلے نہیں نکلیں گی مما کے ساتھ جائیں گی پاپا کے ساتھ یا بھائی محمد ابرہیم کے ساتھ اکیلے بالکل ختم ہے آپکا نکلنا دوسری بات آپکو میں نے باہر نکلنے کی ساری دعائیں سکھائیں تھیں نا وہ پڑھ کر نکلا کریں دعاؤں سے اللّٰہ حفاظت کرتا ہے ۔


اگلی بات کسی کے ساتھ بھی دوکان پر یا کہیں بھی جائیں گی دوکان کے اندر نہیں جائینگی پاپا کا یا بھائی محمد ابرہیم کا ہاتھ پکڑے رہینگی دوکان والے انکل سے خود کچھ بھی نہیں کہیں گی اور اگر کبھی آئندہ دوکان والے ہاتھ پکڑیں تو فورا بھاگ کر آئیں گی جیسے آج آئیں ہیں اگر وہ پھر بھی ہاتھ نہ چھوڑیں تو چیخ ماریں گی تیز تیز بہت تیز اگر پھر وہ منہ پر ہاتھ رکھیں تو سب سے پہلے انکے ہاتھ پر کانٹیں گی اپنے تیز دانتوں سے بہت تیز جیسے ہی وہ آپکے کاٹنے سے آپکا منہ چھوڑیں یا آپ فورا بھاگیں گیں چیخ ماریں یا جو بھی چیز آپکو قریب دیکھے انکل کے سر پر زور سے ماریں گی ٹھیک ہے بیٹی مگر سب سے اہم بات آج کے بعد آپ اکیلی باہر نہیں جائیں گی بات مکمل کرکے اسے ایک بار پھر گلے سے لگایا اور اسے پر سکون کرکے بستر پر لٹا دیا۔آمنہ تو سکون میں أگئ تھی مگر آمنہ کی ماں ارم کا سکون لٹ گیا تھا وہ پریشان ہوگئیں تھیں کہ وہ ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں کم سن بچیوں پر اپنی شہوت کیلئے نگاہ غلط رکھی جاتی ہیں یہ سب کچھ وہ اکیلی نہیں بدل سکتی تھیں لیکن ہاں وہ اپنی بچی کی حفاظت کیلئے خود حرکت میں ضرور آسکتی تھیں اور سب سے پہلی انقلابی حرکت انکی طرف سے یہی ہوسکتی تھی کہ اپنی بچی کو تنہا باہر نہ نکلنے دیں قاضی عمران


16 views0 comments