• 24News pk

سلامتی کونسل میانمار میں جمہوریت کی حمایت کا واضح اشارہ دے، مندوب اقوام متحدہ


اقوام متحدہ۔3فروری (24 نیوز پی کے-اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی خصوصی مندوب نے میانمار میں اقتدار پر فوج کے کنٹرول کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ میانمار میں جمہوریت کی حمایت کااجتماعی طور پر واضح اشارہ دے ۔ خصوصی مندوب کرسٹائن شرینر برگنیرنے میانمار میں فوج کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے اقدام کے ایک روز بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ میانمار فوج اقدامات شدید قابل مذمت ہیں اور اس وقت سب سے زیادہ ضروری سلامتی کونسل کا اتحاد ہے لہذا سلامتی کونسل میانمار میں جمہوریت کی حمایت کا اجتماعی طور پر واضح اشارہ دے۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں ہم نے میانمار میں قانونی میکانزم کے قیام کے زریعے تمام انتخابی تنازعات کے حل کی حمایت کی اور فوج کی جانب سے قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا لیکن ان سب سے پھر جانا حیران کن تھا۔


انہوں نے کہا کہ میانمار میں نومبر کے انتخابات میں عوام نے آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی )کو بھرپور مینڈیٹ دیا تھا جو ملک میں جمہوری اصلاح کی راہ ہموار کرنے واضح عکاس ہے ۔ انہوں نے گرفتار رہنمائوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بعد دونوں اطراف سے مکمل عزم کے ساتھ قانونی عمل دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور فوج کی جانب سے دوبارہ انتخابات منعقد کرانے کے اقدام کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم میانمار کے عوام کی خواہش کا احترام کرنے اور جمہوری اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں مدد کرنے کے لئے اپنی کوششیں کریں اور سلامتی کونسل شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے اپریل سے اقوام متحدہ کی امدادی پروازوں سمیت تمام پروازوں کی معطلی سے ہونے والے انسانی بحران سے متعلق خدشے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ مکمل طور پر امداد بند کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔


انہوں نے ریاست رخائن میں لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو مشکلات درپیش ہونے کے خطرے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ مینمار میں 8نومبر کو ہونے والے انتخابات سے اقوام متحدہ اور میانمار کے مابین مضبوط تعاون کو مستحکم بنانے کی مسلسل پیش رفت کی امید کو خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں اقتدار کی ہموار منتقلی سے روہنگیا بحران ، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور میانمار کی تمام متنوع برادریوں کے لئے قومی مفاہمت اور انسانی حقوق کے تحفظ کو آگے بڑھانے کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گرفتار رہنمائوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ صدر نے میانمار میں فوج کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے اقدام کی مذمت اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اقتدار پر فوج کے کنٹرول سے روہنگیا مسلمانوں سمیت انتہائی اہمیت کے حامل دیگر مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

4 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved