• 24Newspk

شعیب اختر سے راولپنڈی ایکسپریس تک کا سفر



شعیب اختر 13 اگست 1975 کو مورگاہ راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ان کے والد محمد اختر  کا تعلق گجر خاندان سے تھامعاشی طور پر ایک غریب گھرانے سےتھے ”، جو اٹک آئل ریفائنری پٹرول اسٹیشن میں چوکیدار کی حیثیت سے ملازمت کرتا تھے، انہوں حمیدہ اعوان سے شادی کی ، جب کہ وہ ابھی کم عمر تھی ، اور اس جوڑے کے پانچ بچے تھے: عبید ، طاہر اور شاہد کے بعد ، شعیب چوتھے نمبر پر تھے ، اس کے بعد شمائلہ نام کی ایک بیٹی ہوئی۔ شعیب اختر نے 25 جون ، 2014 کو روباب خان سے شادی کی۔وہ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بالر تھے اور جانا جاتا ہے کہ انہوں نے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے تیز تر ڈلیوری کی تھی۔ڈلیوری 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز تھی اور آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2003 کے گروپ مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔

ٹورنٹو میں کھیلے جانے والے سہارا کپ میں ہندوستان کے خلاف شعیب اختر کی پہلی دفعہ  قومی ٹیم کا حصہ بنتے تاہم ، نظم


و ضبط اور ناقص رویہ کی وجہ سے انہیں گھر بھیج دیا

گیا تھا۔   انھیں پہلے راولپنڈی میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز 1997/98 کے دورہ پاکستان کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران منتخب کیا گیا تھا۔ ان کا آغاز خاموش اور معمولی تھا کیونکہ وہ صرف 2 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھے  انہوں نے 1998 میں جنوبی افریقہ کے دور پاکستان کے دوران سب سے پہلے خود کو ثابت کیا۔ گھٹنے کی انجری کے باعث میچ میں آنے کے بعد ، انہوں نے رفتار سے بولنگ کرتے ہوئے 5/43 لے کر پہلی بار جنوبی افریقہ میں پاکستان کو جیتنے میں مدد فراہم کی۔


اس کی شروعات کے کچھ ہی سال بعد ان کی سب سے نمایاں کارکردگی 1999 میں بھارت میں ہوئی جب انہوں نے کلکتہ میں ہونے والے ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں سچن ٹنڈولکر سمیت آٹھ وکٹیں حاصل کیں ، جنھیں انہوں نے پہلی ہی گیند میں آؤٹ کیا تھا  انہوں نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 1999 اور 2002 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی جانے والی سیریز میں کامیابی حاصل کی۔


شعیب اختر متعدد بار  تنازعات میں ملوث رہے جس کی وجہ سے  ان کے کیریئر پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔​2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے بعد ، وہ سابق پاکستانی کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس کے ساتھ زبانی کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ انہیں بال ٹیمپرنگ کا بھی مجرم قرار دیا گیا ۔​ 2004 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ سیریز میں ، وہ انجری کے سبب کپتان انضمام الحق اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ٹیم سے وابستگی کے بارے میں شکوک و شبہات کا سبب بن کر میدان چھوڑ گئے، جن پر اکثر غیر اخلاقی طرز عمل کا شبہ کیا جاتا تھا۔ شعیب کو نام نہاد ناقص رویہ کی بناء پر 2005 میں آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچوں کی سیریز کےدوران  گھر بھیج دیا گیا تھا۔ ایک سال بعد ، کارکردگی بڑھانے والے سامان نینڈرولون کی جانچ کے بعد وہ منشیات کی تذلیل میں الجھ گیا۔ اگرچہ ، اس پر عائد پابندی اپیل پر اٹھائی گئی تھی ، پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر کو معطل کر دیا تھا۔انہوں نے کارکردگی بڑھانے والی دوائی ، نینڈرولون کے لئے مثبت تجربہ کیا تھا۔ اسے عالمی کرکٹ کی تاریخ کےبہت بڑا جرم  سمجھا

جاتا ہے



اکتوبر 16، 2006 کو محمد آصف کے ساتھ  ڈریسنگ روم میں لڑائی بھی کی تھی۔شعیب اختر تین انگلش کاؤنٹی کرکٹ کلبوں کے لئے کھیل چکے ہیں: 2001 میں سومرسیٹ ، 2003 اور 2004 میں ڈورھم اور 2005 میں ورسٹر شائر۔ان تینوں کلبوں میں کچھ اچھی اننگز ہونے کے باوجود ٹیم کے خلاف پوری طرح سے وابستگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر انھیں بے حد تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ انڈین پریمیر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لئے کھیلے تھے۔سال 2007 میں ، اس پر ایک بار پھر پابندی عائد ہوگئی۔ یکم اپریل 2008 کو ، شعیب اختر کو پاکستان کرکٹ بورڈ پر کھلی تنقید کرنے پر پانچ سال سے زیادہ عرصے کے لئے نااہل کردیا گیا تھا۔ سال 2008 میں ، پاکستان میں لاہور ہائیکورٹ نے اس 5 سال کی پابندی ملتوی کردی اور شعیب اختر کو کینیڈا کے اندر ٹی 20 کواڈرانگولر ٹورنامنٹ کے لئے 15 رکنی اسکواڈ کے تحت نامزد کیا گیا۔ شعیب اختر  نے آخری انٹرنیشنل ایونٹ  ورلڈ کپ 2011  تھا۔اس کے بعدکرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔


شعیب اختر تین انگلش کاؤنٹی کرکٹ کلبوں کے لئے کھیل چکے ہیں: 2001 میں سومرسیٹ ، 2003 اور 2004 میں ڈورھم اور 2005 میں ورسٹر شائر۔ ان تینوں کلبوں میں کچھ اچھی اننگز ہونے کے باوجود ٹیم کے خلاف پوری طرح سے وابستگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر انھیں بے حد تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ انڈین پریمیر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لئے کھیلے تھے۔سال 2007 میں ، اس پر ایک بار پھر پابندی عائد ہوگئی۔ یکم اپریل 2008 کو ، شعیب اختر کو پاکستان کرکٹ بورڈ پر کھلی تنقید کرنے پر پانچ سال سے زیادہ عرصے کے لئے نااہل کردیا گیا تھا۔ سال 2008 میں ، پاکستان میں لاہور ہائیکورٹ نے اس 5 سال کی پابندی ملتوی کردی اور شعیب اختر کو کینیڈا کے اندر ٹی 20 کواڈرانگولر ٹورنامنٹ کے لئے 15 رکنی اسکواڈ کے تحت نامزد کیا گیا۔ شعیب اختر ورلڈ کپ 2011 کے بعد کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔



ریکارڈ

اختر نے دو دس وکٹیں حاصل کی ہیں انہوں نے یہ کارنامہ  2003 میں کیا تھا۔ یہ بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز کھیل  کر اور نیوزی لینڈ کے خلاف  ۔  انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں دو بار اور محدود اوورز کی کرکٹ میں دس بار مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ وہ پہلا بولر ہے جس نے 100mph کی رکاوٹ کو بھی توڑ دیا ، جو اس نے اپنے کیریئر میں دو بار کیا۔

بہت سے کرکٹ کے پنڈتوں کا خیال ہے کہ اعدادوشمار اور ریکارڈز شعیب اختر کے نامور نامور کیریئر کے ساتھ انصاف نہیں کرتے ہیں۔

شعیب اختر کی بولنگ سے دنیا کے بڑے نڑے بلے باز سامنا کرنے سے ڈرتے تھے۔سچن ٹنڈولکر،رکی پونٹنگ،برائن لارا،راہول ڈریوڈ یہ وہ نام ہین جو شعیب اختر  کی بولنگ کرنے سے ڈرتے تھے ان کی ٹانگیں کانپتی  تھیں۔اس میں کوئی شق نہیں یہ نام بہت بڑے بیٹسمین تھے۔2003 چیمپئنز ٹرافی میں برائن لارا شعیب اختر کی گیند پر زخمی ہوگئے تھے اور ان کو ہسپتال لے کر جانا پڑا تھا۔ان کے علاوہ گیری کرسٹن ،گنگولی ،ڈریوڈ شعیب اختر کے بائونسرز سے بچ نہیں پائے اور زخمی ہوگئے تھے۔بدقسمتی سے شعیب اختر انجریز کی وجہ سے بار بار ٹیم سے باہر رہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کے بہترین اور فاسٹ بالر تھے


دلچسپ باتیں اور یادیں

شعیب کا بچپن انتہائی پیچیدہ تھا۔ چونکہ اس کے اہل خانہ کے مالی حالت ٹھیک نہیں تھے، ایک بار ایک رات ان کی چھت بارش کی وجہ سے ٹپک رہی تھی ، اور انہوں نے بارش سے خود کو محفوظ رکھنے کی بھر پور کوشش کی۔وہ اپنے اسکول میں بھی اچھا کھلاڑی تھا اور وہ ہمیشہ 100 میٹر ریس دوڑمیں حصہ لیتا تھاایک دفعہ شعیب اخترکرکٹ کھیل کر واپس آرہے تھے گرمی کے  دن تھے اور ان کے پاس پیسے نہیں تھے کہ گنے کا شربت پی سکیں،انہوں نے شربت والے کو کہا کہ مجھے شربت پلائو میں جب قومی ٹیم کے لئے منتخب ہو جاوں گا تو آپ کو دکان لے کر دوں گا آپ وہاں اپنا کاروبار کرنا اس بندے نے مسکرا کر شربت پلا دیا اور بھول گیا لیکن شعیب اختر نہیں بھولے جب وہ قومی ٹیم میں منتخب ہو گئے تو کچھ عرصے بعد وہ اس بندے کے پاس گئے اور ان  کو دکان لے کر دی اور وہ بندہ بہت خوش ہوا اوراس نے شعیب اختر کو بڑی دعائیں دیں۔شعیب اختر جب چھوٹے تھے تب ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ یہ بچہ معزور ہے بڑے ہوکر اس کو چلنے میں مسئلہ ہوگا۔لیکن انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے سب کو غلط ثابت کر دیا۔وہ دنیا کے تاز ترین بالر بن گئےایک پاکستانی جج رانا بھگوانداس نے ایک بار کہا تھا کہ شعیب کرکٹ کا ایک حقیقی لیجنڈ ہے۔ "بہت سارے لوگ اللّه کو سن کے مانتے ، ہمارے ساتھ ایسے معجزات اور کرشمات ہوتے ہے ہم دیکھ کے مانتے ،اللّه محسوس کرنے کی چیز ہے ، اب تو کتنا محسوس اسے کر سکتا یہ تیری جبلت پر ہے۔ اللّه نے کوالٹی رکھی ہے، میں لوگوں کو سوچوں میں معاف کر دیتا ہوں اور میرے لیے اوپر سے سسٹم چل جاتا، بڑی وجہ میری ماں کی خدمت ہے۔ اپنی ماں کو آج بھی ورزش کروا کے گٹھ کے مالش کر کے پھر سوتا ہوں ، بچاری ساری رات دعاکرتی رہتی۔""1994 میں جب راولپنڈی سے لاہور ٹرائل دینے گیا تو میرے پاس رہنے کو جگہ نا تہ تھی۔ وہاں مجھے ایک تانگے والا اسے میں نے یاری لگا لی، اسکی بگی میں مینے پوری رات گزاری۔ صبح تانگے والے نے مال روڈ چھوٹا وہا سے بھاگتا بھاگتا میں ماڈل ٹاؤن ٹرائل دینے پونچا۔ تانگے والے نے کہا شعیب جب تو سٹار بن جاۓ گا ۔میرے پاس آے گا نا ۔؟میں نے کہا ضرور آو گا۔ میں پھر سٹار بنا1999 میں واپس گیا اسے ڈھونڈھا ،اور کہا بتا کیا لے گا اس احسان کا ۔۔اس نے کہا کچھ نہیں۔۔ بس آج رات تجھے میرے ساتھ یہی سونا پڑے گا اور میں اسکے ساتھ وہاں سویا اور صبح پھر ناشتہ کیا ۔۔ اس کے گھر والو کو میں نے پھر سہارا دیا.


Subscribe to 24Newspk 

Contact us
  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved