• 24Newspk

صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی سے بوم بوم آفریدی تک کا سفر




شاہد خان آفریدی یکم مارچ 1980 میں خیبر اجنسی  میں پیدا ہوئےان کا تعلق پشتون قبیلے سے ہے۔۔ابتدائی تعلیم کے بعد کراچی میں قیام پذیر ہوئے وہاں انہوں نے تعلیم  کے ساتھ ساتھ کرکٹ کی باقائدہ ٹرینگ شروع کی۔

شاہد آفریدی کے والد چاہتے تھے کہ وہ فوجی بنے یا اپنا کاروبار کریں ، کیوں کہ ان کے خاندان میں لوگ فوج میں نوکری کرتے تھے یا اپنا کاروبار، کوئی بھی کرکٹ یا کسی اور کھیل کو اپنا کیریئر بنانا نہیں چاہتے تھے وہ صرف  وقت گزارنے کے لئے کوئی بھی  کھیل کھیلتے تھے چاہے وہ کرکٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اس بات کا شاہد آفریدی اپنے انٹرویو کئی دفعہ ذ کر کر چکے ہیں کہ اگر وہ کرکٹر نہ ہوتےتو وہ  فوجی ہوتے۔شاہد آفریدی نے ٹھان لی تھی کہ وہ کرکٹرہی بنیں گے اور اپنے  ملک  کا  اور والد  کا نام روشن کریں گے،انہوں نے اپنی محنت جاری رکھی  اور اس کے لئے ان کو اپنے والد کی ڈانٹ بھی برداشت کرنا پڑی۔لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔



شاہد آفریدی نے  اپنی محنت کی بدولت  پاکستان کی  انڈر19 ٹیم میں جگہ بنائی۔ شاہد آفریدی نے انڈر 19 چیمپیئن شپ میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور انڈر 19 چیمپیئن شپ میں اپنی عمدہ کارکردگی سے  اپنی ٹیم کو چیمپیئن بنوایا۔۔اشاہد آفریدی کو ان کی کارکردگی کی بنا پرقومی ٹیم میں شامل کیا  گیا۔انہوں نے پانج میچوں میں 5۔9 کی اوست سے 42 وکٹیں لیں اس کے علاوہ شاہد آفریدی نے انگلینڈ  اے کے خلاف پاکستان اے ٹیم  کی نمائندگی کی۔شاہد آفریدی کو اکتوبر  1996 میں کینیا میں جاری سمیر کپ میں مشتاق احمد کے زخمی ہونے کے بعد ان کی جگہ  شامل کیا گیا


شاہد آفریدی  کو ٹیم میں ایک بالر کی حیثیت سے  شامل کیا گیا تھالیکن شاہد آفریدی کو شہرت ان کی بیٹنگ کی وجہ سے ملی،شاہد افریدی نے  اپنے کیریئر کا آغاز 2 اکتوبر 1996 میں کینیا کے خلاف کیا۔اس میچ میں شاہد آفریدی نے کوئی وکٹ نہیں لی اور نہ ہی بیٹنگ کی باری آئی۔ اگلا میچ سری لنکا کے خلاف تھا۔اس میچ میں  شاہد آفریدی کو نمبر 3 پر بیٹنگ کے لئے بھیجا گیا اور یہیں سے ان کی قسمت کے دروازے کھلے ،شاہد آفریدی نے سری لنکا کے خلاف  37 گیندوں پر تیز ترین سنچری  کا نیا عالمی ریکارڈ بنایا ،انہوں نے ایک اننگز میں 11 چھکے لگانے کا بھی ریکارڈ بنایا ،اس کارکردگی کے بنا پر ان کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ریکارڈ کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا  کہ میچ سے aیک دن پہلے رات کو انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ انہوں نے بہت اچھی بیٹنگ کہ ہے اور لوگ تالیاں بجا رہے ہیں۔صبح اٹھ کر خواب معین خان کو سنایا تو انہوں نے کہا ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ اور اسی دن میچ بھی تھا۔شاہد آفریدی کی تیز ترین سینچری جو کافی سالوں تک ورلڈ ریکارڈ رہا


بعد میں 2014 میں نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن نے 36 گیندوں پر وہ ریکارڈ توڑ دیا۔ ان کے بعد جنوبی افریقہ کے اے بی ڈویلیئر نے 31 گیندوں پر سینچری کر کے کورے اینڈرسن سے تیز ترین سینچری کا ریکارڈ چھین لیا۔ ا شاہد آفریدی کی تیز رفتار بیٹنگ سے  پوری دنیا میں چرچے ہونے لگے۔اس کے بعد شاہد آفریدی اپنی پرفارمنس کی بنا پر  پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرنے لگے۔شاہد آفریدی نے 2 سال بعد ٹیسٹ کیریئر کا آغاز آسٹریلیا کے خلاف میچ سے کیا انہوں پہلے میچ کی پہلی اننگز میں 5 وکٹیں لے کر ریکارڈ قائم کیا۔شاہد آفریدی نے دنیا کے کسی بالر کو نہیں بخشہ ،دنیا میں ایسا  کوئی بالر نہیں جس کو شاہد آفریدی نے چھکے چوکے نہ لگائے ہوں۔

ویسے تو ایسے کئی پلیئر آئے جو بالر کی حییثیت سے ٹیم شامل ہوئے لیکن بعد میں وہ اچھے بیٹسمین بھی بنے لیکن جتنی شہرت شاہد آفریدی نے حاصل کی اتنی شاید ہی کسی کو ملی ہو۔شاہد  آفریدی نے اپنے کیریئر میں بہت کارنامے سر انجام دیے۔ایسے ایسے میچ جتوائے ہیں جو نا ممکن تھا بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر آفریدی نہ ہوتے تو شاید وہ میچ ہم ہار جاتے۔



جیسے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف آخری اوور میں ایشون کو 2 گیندوں پر 2 چھکےلگانا ،بنگلادیش کے خلاف ایشیا کپ میں 18 گیندوں پر 50 رنز بنانا اور ایسے کئی میچز ہیں جن میں شاہد آفریدی نے اکیلے میچ جتوائے ہیں ۔بھارت میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 141 رنز کی اننگز آج بھی یادگار اننگز ہے۔ہربجھن سنگھ کو 4 گیندوں پر 4 چھکے کون بھول سکتا ہے۔ایشیا کپ میں بنگلا دیش 60 گیندوں پر 124 رنز آج بھی ایشیا کپ کی تیز ترین سینچری ہے۔



اس کے بعد بھارت کے خلاف  45 گیندوں پرسنچری۔چیمپئنز ٹرافی میں تیز ترین ففٹی 18 گیندوں پر بنائی تھی وہ آج بھی ریکارڈ ہے۔  ولڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹورنامینٹ میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا۔ولڈ ٹی ٹوئنٹی 2009 میں پاکستان چیمپیئن بنا۔اس شاہد آفریدی کا اہم کردار تھا۔شاہد آفریدی نے سیمی فائنل اور فائنل میں عمدہ کارکردگی پر ان کو دونوں میچوں میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا یہ ابھی ایک ریکارڈ ہے کہ شاہد آفریدی  میگا ایونٹ کے سیمی فائنل اور فائنل میں حاصل کرنے والے واحد کھلاڑی ہیں۔


شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 1416رنز اور 97 وکٹیں حاصل کر رکھیں ہیں جو ابھی تک کسی بھی بالر کی  سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔یاد رہے کہ شاہد آفریدی کو ریٹائر ہوئے 3 سال ہو گئے ہیں

شاہد آفریدی پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے  ورلڈ کپ 2011 اور  2010 ،2016 میں بطور کپتان پاکستان کی نمائندگی کی۔اس کے علاوہ 2017 میں آئی سی سی نے ورلڈ  الیون کی قیادت  بھی  دی  جو ایک  پاکستانی کھلاڑی کے لئے  بڑا اعزاز ہے۔


شاہد آفریدی کا نام بوم بوم آفریدی  بھارتی کرکٹر روی شاستری نے یہ ٹائٹل دیا۔ اس کے بعد ہر بندے کے زبان پر بوم بوم آفریدی گونجنے لگا۔شاہد آفریدی کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوئے 3 سال ہوگئے ہیں لیکن آج بھی ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔آج بھی وہ لیگ کرکٹ میں مہنگے ترین کھلاڑی ہیں۔ان کا متبادل آج تک نہیں آیا۔

شاہد آفریدی پر بہت سے لوگوں نے تنقید بھی لیکن زیادہ تعداد محبت کرنے والوں کی ہے۔

آج ہماری ٹیم کو شاہد آفریدی جیسے پلیئر کی ضرورت ہے جو نڈر ہو جس کو دنیا کا کوئی بھی بالر پریشر میں نہ لا سکے اور شاہد آفریدی کی طرح چھکے چوکے لگائے اور وکٹیں لے۔



Subscribe to 24Newspk 

Contact us
  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved