• 24News pk

فاتح کی یلغار (حصہ دوئم)

Updated: Feb 21


سلطان کو اپنے امیر البحر کے ناکام ہونے کی اطلاع ملی تو سلطان غصے کی حالت میں اٹھے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر خود سمندر کے کنارے جا پہنچے۔جنیوی جہازوں کے کامیابی سےہمکنار ہونے کی خبر نے قسطنطنیہ کے شہریوں میں ایک نئی روح پھونک دی ۔عوام تک اڑتی خبر یہ بھی جا پہنچی کہ ابھی جنیوی بیڑے کے مزید پانچ جہاز بھی بحرمارمورا میں موجود ہیں جو کچھ دیر بعد آبنائے باسفورس میں داخل ہونے والے ہیں ۔لوگ جو ق در جوق عقبی فصیل کی جانب دوڑے اور آن کی آن میں قسطنطنیہ کے ہزاروں شہری ایک جم غفیر کی شکل میں فصیل شہر پر نظر آنے لگے۔ادھر عثمانی بری فوج کے ہزاروں سپاہی اس دلچسپ بحری جنگ کا ولولہ انگیز منظر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ہزاروں نگاہیں سمندر کی لہروں پر مرکوز تھیں لوگوں نے دیکھا کہ جب جنیوی جہاز سمندر میں داخل ہوئے تو عثمانی بحریہ نے بڑے جوش وخرش کے ان جہازوں پر حملہ کرکے ان کی لمبی قطار کو توڑ دیا اور وہ ایک ہی جگہ آگے پیچھے اور پہلو بہ پہلو اکٹھے ہو گئے۔عثمانی جہازوں نے چاروں طرف سے جنیوی بحریہ کے ان پانچوں جہازوں کو گھیر لیااور ان پر آتش و آہن برسانے لگے۔عچمانی جہاز جب پوری طرح مسیحی جہازوں پر غالب آگئے تو بلوط اغلن نے اپنے جہازوں کو مسیحی جہازوں کے ساتھ لگادیا۔اسلامی بحریہ کے مجاہدوں کی یہ خواہش تھی کہ وہ کسی طرح مسیحی جہازون پر سوار ہو جائیں اور ان کے ملاحوں کو قتل کر کے ان کو گرفتار کرلیں لیکن جنیوی جہاز اس قدر بڑے اور بلندتھے کہ عثمانی سپاہی اپنے چھوٹے اور پست جہازوں سے ان پر کسی طرح نہ چڑھ سکے۔شروع شروع میں جب عثمانی جہازوں نے عیسائیوں کو گھیرلیا تو دیکھنے والی نگاہوں کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ پانچوں جہاز ضرور گرفتار ہوجائیں گے لیکن پھر اچانک فصیل شہر کی جانب سے اس وقت فلک شگاف شور بلند ہوا جب محصور عیسائی جہاز ترکوں کا محاصرہ توڑ کر بڑی تیزی سے "گولڈن ہارن" کے دروازے پر آپہنچے۔محصورین نے فوراً زنجیر نیچے کر دی اور جنیوی جہاز گولڈن ہارن میں داخل ہوگئے۔سلطان محمد خان نے اپنی بحری فوج کی اس ناکامی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کو سخت ملال ہوا۔عیسائی جہاز ہاتھ سے نکلنے لگے تو سلطان سے ضبط نہ ہو سکا اور انہوں نے بے اختیار ہو کر اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا۔

سلطان نے غصے کے عالم میں امیر البحر کو بلوایا اور غم و غصے سے بے قابو ہوکر امیر البحر پر ہاتھ اٹھا دیا لیکن امیر البحر کی اس میں کوئی خطا نہیں تھی۔ اس نے تو اپنے چھوٹے جہازوں کے ذریعے عیسائیوں کے دیوہیکل جہازوں کو محصور کر لیاتھا۔ ملسمانوں کے لئے ان جہازون پر سوار ہونا ناممکن تھا البتہ سلطان کی تنبیہ سے امیر البحر مستعدد ہو گیا اور اس کے بعد کسی اور جہاز کو یہ جراٗت نہ ہوئی کہ وہ در دانیال کو عبور کرکے بحر مارمورا میں داخل ہو سکے۔ان پانچ جہازوں میں کو فوج سوار ہو کر آئی تھی یہ گویا قسطنطنیہ کے لئے آخری بیرونی امداد تھی۔سلطان نے محاصرہ کے کاممیں انتہائی درجہ کی مستعددی دکھائی بار بار نقصان اٹھانا پڑا بار بار حملے ناکام اور بے نتیجہثابت ہوئے۔محصورین کی ہمتیں اپنی کامیابیوں کو دیکھ دیکھ کر اور بھی زیادہ بڑھتی رہیں ۔شہر کے اندر سامان رسد کی مطلق کمی نہ تھی۔ وہ برسون محصور رہ کر مدافعت پر ثابت قم رہنے کا ارادہکر چکے تھے۔ ان کو یہ بھی توقع تھی کہ ہنگری کا بادشاہ"ہونیاڈے" اپنے عہد نامہ صلح کو توڑ کر ضرور شمال کی جانب سے حملہ آور ہوگا اور قسطنطنیہ کا محاصرہ اٹھ جائے گا ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے سلطان محمد خان کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو یقینا محاصرہ اٹھا کر چل دیتا اور اس کام کو کسی دوسرے وقت پر ٹال دیتا مگر سلطان اپنے ارادے کا پکا اور ہمت کا دھنی تھا۔ان کے عزم واستقلال میں کوئی کمی نہ آئی اور ان کے ارادے ہر ناکامی کو دیکھ کر اور زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔

سلطان محمد خان جب "ادرنہ" سے چلا تھا تو اس نے اپنے ہمراہ علماء ،فضلاء،عابدوں اور زاہدوں کی ایک جماعت بھی رکھی تھی،ان برگزیدہ لوگوں کی محبت سے مستفیض ہونے کا خیال ان کو شروع سے ہی تھا۔درویش صفت سلطان مراد خان ثانی نے اپنی زندگی کے آخری چھ سالون میں سلطان محمد خان کو "ایدین" کے علماءصوفیاء کی محفل میں بھیج دیا تھا،انہی نیک لوگو نسے محبت سے ان کے ارادوں میں استقلال اور حصولوں میں بلندی پیدا ہوئی تھی ۔دوران محاصرہ بھی وہ ان لوگوں سے مشورےکرتے رہے۔اپنی پہلی بحری شکست کے بعد محاصرہ میں مزید سختی پیدا کرنے کے لئے ایک روز سلطان محمد خان کو ایک اسی تاریخی تدبیر سوجھی جس نے سلطان محمد خان ثانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے" سلطان محمد فاتح"بنادیا۔ سلطان کو اندازہ ہو چکا تھاکہ آبنائے باسفورس کے اس حصہ میں جہاں پانی زیادہ گہرا تھا ترکی بیڑا عیسائیوں کے طاقتور جہازون کے مقابلے میں مشکل سے کامیاب ہو سکتا ہے۔لہٰذا اس نے فیصلہ کیا کہ کشتیوں کی ایک بڑی تعداد اور بہت سے بحری جہاز جو عیسائی بحریہ سے نسبتا چھوٹے تھے،بندرگاہ کے بالائی حصے میں منتقل کردئیے جائیں جہاں پانی تنگ اور چھلچھلا تھا۔بندرگاہ کا بالائی حصہ گولڈن ہارن پر مشتمل تھا اور گولڈن ہارن پر کوئی زد نہ پڑ سکتی تھی۔محاصرین تمام ہمت خشکی کی جانب صرف ہو رہی تھی۔خاص کر سینٹ رومانس والے دروازے کی جانب آلات قلعہ کشائی زیادہ کام میں لائے جا رہے تھے۔لہٰذا اہل قسطنطنیہ بھی باقی اطراف سے بے فکر ہو کر اس جانب اپنی پوری قوت مدافعت صرف کر رہے تھے۔


سلطان محمد خان ایک ناممکن کام کوممکن بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔سلطان نے یہ کیا کہ آبنائے باسفورس کے گہرے پانی میں گشت کرنے والے اپنے جہازوں اور کشتیوں کو گولڈن ہارن میں داخل رنے کے لئے جہازوں کو پانی کے بجائے خشکی پر چلانے کی عجیب و غریب تجویز پیش کی۔سطان کا فیصلہ دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد اور محیرالعقل یادگارنبنے والا تھا۔ان کا فیصلہ یہ تھا کہ جہازوں کو گولڈن ہارن میں پہنچانے کے لئے انہیں دس میل تک خشکی پر چلا کر لے جائے گا اس کے لئے باسفورس کے مغربی ساحل سے جہاز خشکی پر چڑھا کر انہیں گولڈن ہارن میں ڈال دیا جائے گا۔خشکی کا یہ درمیانی علاقہ تقریبا دس میل لمبا اور سخت ناہموار اور پہاڑی اتار چڑھاؤ سے بھرپور تھا۔سلطان نے ماہ جمادی الاول کی چودہ تاریخ کو جب چاند کی چاندنی ساری رات پورے علاقے کو روشن رکھ سکتی تھی،باسفورس سے لے کر بندرگاہ گولڈن ہارن تک برابر لکڑی کے تختے بجھوادیے،یہ سلطان کی اولو العزمی کا ایک محیر العقل عجوبہ تھا۔سلطان نے یہ کام ایک رات میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہون نے دس میل کے راستے پر تختے بچھوا کر چربی ڈلوادی اور چکناہٹ سے لکڑی کے وہ تمام تختے ایک خشک سمندر بن گئے۔فصیل شہر سے ادن بھر لوگ سلطانی سپاہیوں کو تختے بچھاتے اور چربی ملتے دیکھتے رہے لیکن وہ حیران تھے کہ آخر مسلمان کیا کر رہے ہیں ؟ رات ہوتے ہی سلطانی سپاہیوں نے اپنے بہترین 80 جہازوں کو کھینچ کر لکڑی کے تختوں پر چڑھا لیا۔ان 80 جہازوں کی ٹرین جب خشکی پر چڑھ آئی تو ان میں باقاعدہ ملاحوں اور بحری سپاہیوں کو سوار کیا گیا اور پھر ہزارہا آدمیوں نے دونوں طرف سے ان جہازوں کو دھکیلنا شروع کر دیا۔اس مقصد کے لئے ہوا کے جھونکوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔چناچہ سلطان نے اپنے جہازوں کے بادبان کھول دیے،جہازوں کی اس ٹرین کو کھینچنے کے لئے انسانوں کے علاوہ بیلوں نے بھی اپنا پورا زور لگایا ۔راستہ طویل اور دشوار گزار تھا۔چاند کی چاندنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور چاندنی رات میں ہزاروں آدمیوں کا شور وغل ،خوشی کے نعرے اور فوجی گیت فصیل شہر پر موجود عیسائی سنتے رہے۔اور یہ سوچ سوچ کر حیران ہوتے ہے کہ آخر آج مسلمان کیا کر رہے ہیں ۔

قسطنطین نے خود فصیل پر پہنچ کر مسلمانوں کی نقل و حرکت کو ملاحظہ کیا اسے عثمانی فوج کے باجے سنائی دیے لیکن اس سے زیادہ وہ کچھ نہ سمجھ سکا کہ مسلمان خوشی منا رہے ہیں ۔رات بھر 80 جہازوں کا یہ جلوس سفر کرتا رہا اور قسطنطنیہ کے عیسیائی آخر وقت تک کچھ نہ سمجھ سکے،بالآخر جب صبح کے اجالے نے راز سے پردہ اٹھایا تو سلطانی لشکر کے 80 جہاز اور بھاری توپ خانہ گولڈن ہارن میں منتقل ہوچکا تھا۔اہل قسطنطنیہ نے عثمانی بحریہ کے 80 اسلحہ برداز جہازوں کو گولڈن ہارن میں موجود دیکھا تو پورے شہر کی سانسیں رکنے لگیں یہ کیا ہو گیا؟ یہ تو نا ممکن بات ممکن ہوگئی تھی۔اہل قسطنطنیہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔انہوں نے دیکھا کہ عثمانی جہازون نے فصیل شہر کے نیچے ایک پل بنا دیا تھا اور اپنی توپوں کو مناسب مقامات پر رکھ کر اس طرف کی فصیل پر گولہ باری کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی۔یہ دیکھ کر عیسائیوں کے حواس جاتے رہے۔قسطنطین کے جو جہاز گولڈن ہارن میں موجود تھے وہ سب کے سب گولڈن ہارن کے دہانہ کے قریب آہنی زنجیر کے متصل صف بستہ تھے تاکہ کسی کو اندر داخل نہ ہونے دیں۔شہر کے قریب بندرگاہ کی نوک پر ان کو رہنے کی ضرورت نہ تھی۔قسطنطین کے جہازوں نے عثمانی بحریہ گولڈن ہارن میں دیکھا تو ان پر حملہ کرنے کے لئے بڑھے۔یہ 24 مئی 1453ء کا دن تھا اس روز قسطنطین نے سلطان کے پاس پیغام بھیجا " آپ کس قدر خراج مجھ پر مقرر کریں میں ادا کرنے کو تیار ہوں ۔مجھ کو اپنا باجگزارکر قسطنطنیہ میرے پاس رہنے دیجیے۔"

سلطان کو اس وقت اس بات کا یقین ہو چکا تھا کہ وہ شہر کو فتح کر لے گا۔چناچہ انہوں نے قسطنطین کو جواب دیا۔

" اگر تم اطاعت قبول کرتے ہو تو تم کو یونان کا جنوبی حصہ دیا جاسکتا ہے لیکن قسطنطنیہ کو میں اسلامی سلطنت میں شامل کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔"

سلطاب جانتا تھا کہ قسطنطنیہ کی عیسائی سلطنت جو سلطنت عثمانیہ کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ جب تک قائیم رہے گی خطرات سد باب نہ ہوگا۔وہ قسطنطین اور اس کے پیش روقیاصرہ کی مسلسل شرارتوں سے بخوبی واقف تھے۔بالآخر سات ہفتوں کی متواثر گولہ باری کے بعد قسطنطنیہ کی فصیلوں میں پہلی بار تین مختلف مقامات سے بڑے بڑے شگاف نمودار ہوگئے۔وہ فصیلیں جو صدیوں سے ہر دشمن کے تششد کا سامنا کر رہی تھی وہ عثمانی توپوں کا مقابلہ نہ کر پائٰیں اور عثمانی توپوں نے ان کا حلیہ بگاڑ دیا۔

سلطان نے قسطنطین کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ شہر کو ان کے حوالے کر دے تو رعایا کے جان ومال سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا اور "موریا" کی حکومت اس کو دی جائے گی لیکن قسطنطین نے اسے منظور نہیں کیا۔چناچہ سلطان محمد خان نے اپنے لشکر میں اعلان کرادیا کہ 20 جماد الاول یعنی 29 مئی کو آخری اور فیصلہ کن حملہ ہوگا اور سرکاری عمارات کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔سلطان نے اعلان کیا کہ کسی بچے ضعیف،عورت اور اسلحہ ڈالنے پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا۔مسلمان لشکر میں رات بھر خوشی کے نعرے بلند ہوتے رہے۔ادھر شہر کے اندر قصر شاہی میں قسطنطین نے اپنے سپہ سالاروں ،عمائدین ،سلطنت اور امراء شہر کو مدعو کر کے ایک جلسہ منعقد کیا اس کو پتا چل گیا تھا کہ کل فیصلہ کن حملہ ہوگا اس لئے انہوں نے شہریوں کو آخری دم تک لڑنے اور مرنے کی ترغیب دی اور خود بھی بھرے مجمع ہے یسو مسیح کی قسم کھا کر کہا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک ترکوں کا مقابلہ کریں گے۔عثمانی لشکر نے رات بھر ذکر وتسبیح اور دعائیں کی۔

سلطان محمد خان ایک عزم کے ساتھ اٹھا اور فصیل شہر کے نزدیک ایک مقام پر انہوں نے دو رکعت نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا۔زمین کا وہ حصہ جہاں سلطان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی وہ جگہ ہمیشہ کے لئے "فاتح نماز گاہی " بن گئی ۔بالآخر سلطان نے اپنی لاڈلی فوج ینی چری کا ایک بڑا دستہ اپنے ہمراہ لیا جس کی صف اول میں آغا حسن ،عبدالرحمٰن اور ریاض بیگ جیسے سپاہی شامل تھے۔یونانی اور رومی اس وقت تک بلکل ختہ ہو چکے تھے ان میں تازہ حملے کی تاب نہ تھی۔سلطان نے اپنے تازہ مہم پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے وزیر خاص کو اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں روانہ کیا اور کہا کہ یہ وقت خاص دعاؤں اور روحانی امداد کا ہے۔سلطان کو اندیشہ تھا کہ آج اگر قسطنطنیہ فتح نہ ہوا تو کبھی نہیں ہوگا کیوں کہ آج حملہ آور اپنی پوری طاقت اور ہمت صرف کر چکا تھا۔عثمانی وزیر جب مرد خود آگاہ کے چھولیداری کے قریب پہنچا تو درہان نے ان کو اندر جانے سے روک دیا اور جانے کا منع کردیا لیکن عثمانی وزیر نے درہان کو ڈانٹا اور کہا میں ضرور مرشد سلطانی کی خدمت میں حاضر ہوکر سلطان کا پیغام پہنچائے گا۔یہ کہہ کر سلطانی فرستادہ چھولداری میں داخل ہوگیا اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ سربجود اور دعا میں مصروف ہیں ۔عثمانی وزیر کے داخل ہونے پر سر اٹھایا اور مسکہراتے ہوئے کہا "جاؤ!۔۔۔۔قسطنطنیہ فتح ہوچکا ہے۔"عثمانی وزیر کو بزرگ کی بات پر یقین نہیں آیا اور بھاگتے ہوئے باہر نکلا دیکھا تو فصیل شہر پر اسلامی پرچم لہرا رہا تھا


دوسری طرف جنگ کا سماں تھا اور قسطنطین کو اپنی شکست نظر آرہی تھی جو اب تک بڑی بہادری سے اپنے بہادر ساتھیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا اپنے ساتھیوں کی طرف سے حوصلہ چھوڑ دینے پر امید کا دامن چھوڑ بیٹھا تھا اور اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے بلند آواز سے پکارا۔

" کیا کوئی عیسائی نہیں ہے جو مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دے؟۔۔۔کیا کوئی عیسائی نہیں ہے جو مجھے اپنے ہاتھوں سے قتل کرے؟"

لیکن جب اس کو کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے قیاصرہ روم کی پوشاک اتار کر پھینک دی اور عثمانی فوج کے بڑھتے سیلاب گھس کر ایک سپاہی کی طرح اور وہ لڑتے ہوئے مارا گیا۔سلطان محمد خان اپنے بہادر سالاروں اور معتمد کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار ہوکر اسی منہدم فصیل کے راستے شہر میں داخل ہوا اور شہر کے بیچوں بیچ سے گزرتا ہوا "آیا صوفیا" چرچ کے پاس پہنچا ۔یہاں اس ستون کے پاس جس کے ساتھ ترکوں کی شکست کی پیشنگوئی منصوب تھی ،ہزاروں عیسائی پناہ گزین تھے۔دراصل عیسائیوں کے اعتقاد کی بنیاد ۔۔"ایک جوشیلے یا اختراع پرداز پادری کے الہام پر تھی جس نے بشارت دی تھی کہ ایک دن ترک قوم کے لوگ قسطنطنیہ میں داخل ہو جائیں گے اور رومیوں کا تعقب کرتے ہوئے اس ستون تک پہنچ جائیں گے جو شاہ قسطنطین کے نام سے منصوب ہے لیکن بس یہی ان کے مصائب کا نقطہء آغاز ہوگا کیوں اس وقت فرشتہ ہاتھ میں تلوار لئے نازل ہوگا اور اپنی آسمانی کے ذریعے قسطنطنیہ کی سلطنت ایک ایسے غریب آدمی کے حوالے کر دے گا جو اس وقت اس ستون کے پاس بیٹھا ہوگا۔فرشتہ اس شخص سے کہے گا یہ تلوار پکڑو اسے خدانود کا انتقام لو ۔۔بس اس حیات آفریں جملے کو سنتے ہی ترک فورا بھاگ کھڑے ہوں گےاور رومی فتح یاب ہوکر ترکوں کو مغلوب کر دیں گے ۔وہ ترکوں کو مغرب اور اناطولیہ سے ایران کی سرحدوں تک بھگا دیں گے۔(انگریز مورخ ایڈورڈ گین)

سلطان کا گھوڑا جب اس ستون کے پاس پہنچا تو قسطنطنیہ کے ہزاروں عیسائی سراٹھا اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے ،انہیں توقع تھی کہ آسمانی فرشتہ ہاتھ میں تلوار لئے ابھی نازل ہوگا اور ترک سلطان اپنے ساتھیوں سمیت بھاگ اٹھے گا۔لیکن سلطان محمد خان اس ستون سے بھی آگے بڑھ کر سینٹ صوفیا کے دروازے تک پہنچ گیا نہ کوئی آسمان سے فرشتہ آیا نہ کوئی رومیوں کو شکست سے بچا سکا۔ سلطان نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ظہر کی نماز آیا صوفیا میں پڑھیں گے چناچہ فوری طور پر آیا صوفیا کے حال سے عبادت کی نشستیں ہٹادی گئیں اور آیا صوفیا کے ہال میں سلطان محمد فاتح کے حکم پر اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں ۔سلطان اور ان کے ساتھی خدائے واحد کی تسبیح وتقدس کے لئے سربجود ہوئے تو آیا صوفیا کے ہال میں ایک طرف کھڑے عیسائی پادریوں کی آہیں اور سسکیاں نکل گئیں ۔نماز سے فارغ ہوکر سلطان نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ جاکر قسطنطین کی لاش کو تلاش کریں ۔قسطنطین سینٹ رومانس کے دروازے کے نزدیک ہی لڑتا ہوا مارا گیا تھا ۔سب سے زیادہ کشت وخون سینٹ رومانس کے دروازے پر تھا جہاں اس وقت عیسائیوں کے لاشوں کے انبار پڑے تھے۔اس جگہ بہت سی لاشوں میں قسنططین کی لاش ملی جس کو صرف جسم پر دو زخم تھے۔سلطان کے سپاہی قسطنطین کا سر کاٹ سلطان کے پاس لے آئے اور اس طرح فتح قسطنطنیہ تکمیل کو پہنچی۔

33 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved