• 24newspk

فارن فنڈنگ کیس بڑا فیصلہ آگیا


اسلام آباد (24 نیوز پی کے) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنا یا جس میں پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دے دیا۔ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز لیے۔پارٹی کی طرف سے دیا گیا بیان حلفی جھوٹا قرار دے دیا۔

چیف الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی نے 34 اور 351 کاروباری اداروں بشمول کمپنیوں سے فنڈ لیے۔سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 سے متعلق ممنوعہ فنڈنگ ہے، پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے پولیٹکل پارٹی آرڈر کی بھی خلاف ورزی کی۔ووڈن کرکٹ کی طرف ملنے والی امداد ممنوعہ قرار اس کے علاوہ برسٹل سروسز والی فنڈنگ بھی ممنوعہ قرار دیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی امریکہ ،کینڈا سے ملنے والی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا گیا۔تحریک انصاف 13 اکاونٹس کا ریکارڈ نہ دے سکی۔ 13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں : الیکشن کمیشن کا فیصلہ ۔اکاؤنٹس چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا تھا وہ غلط تھا۔تحریک انصاف کو شو کاز نوٹس جاری


Islamabad (24 News PK) The Election Commission of Pakistan has announced the decision on the prohibited foreign funding case of Pakistan Tehreek-e-Insaaf.

A three-member bench headed by the Chief Election Commission pronounced the decision banning PTI's foreign funding. PTI took prohibited funds. Declared the affidavit given by the party to be false.

The Chief Election Commission said that PTI took funds from 34 and 351 businesses including companies. Funding is prohibited under Article 6 of the Political Parties Act. The Pakistan Tehreek-e-Insaf Party also violated the Political Party Order. The aid received by Wooden Cricket was banned. In addition, funding with Bristol services was also banned. Pakistan Tehreek-e-Insaf's funding from America, Canada was banned. Tehreek-e-Insaf could not provide records of 13 accounts. 13 unknown accounts have come to light: Election Commission's decision. Hiding accounts is a violation of the constitution. PTI chairman submitted Form 1 which was wrong. Show cause notice issued to Tehreek-e-Insaf.



19 views0 comments