• 24News pk

مسلم لیگ ن نے نوٹ کو ووٹ کے ساتھ تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز


اسلام آباد۔5مارچ (24 نیوز پی کے-اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے نوٹ کو ووٹ کے ساتھ تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے ، اپوزیشن کے مفاد میں نہیں کہ الیکشن شفاف ہوں اور اس میں پیسوں کا اثرورسوخ نہ ہو ‘ وہ ایسے لوگوں کو منتخب کرانا چاہتے ہیں جو اہلیت رکھتے ہوں اور نہ قابلیت‘ ان کی ترجیحات اپنے کاروبار کو دوام دینا ہے ،عوام کے مفادات اور حقوق کا علم وزیراعظم عمران خان نے اٹھایا ہوا ہے جو کہ روشنی کی قوت ہے ، قومی انتخاب اور سینٹ انتخابات بارے ہمارا بیانیہ کافی واضح ہوگیا ہے کہ کون کدھر کھڑا ہوا ہے، بیٹے کی ویڈیو کے بعدیوسف گیلانی کو دوسر ے ہی دن استعفی د ےدینا چاہیے تھا ۔


وہ جمعہ کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین اور کامیاب ہونے والے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کے ہمراہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پچھلے کئی ہفتوں اور مہینوں سے عمران خان اور انکی حکومت اس بات پر زور دےر ہی تھی کہ انتخابی عمل شفاف ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ شفاف الیکشن کے بعد ہمارے ایوان کا تقدس بحال اور 1985سے شرو ع ہونے والے پیسے کے کلچر کا خاتمہ ممکن ہے ‘ پیسوں کے کلچر سے ایوان میں آنے والوں کی ترجیحات عوام نہیں بلکہ پیسے کمانا ہوتا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ہمارے سیاسی کلچر کوپیسوں سے رنگ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 2015سے الیکشن اصلاحات کی بات کی اور 2018سینٹ الیکشن میں اپنے 20اراکین کو فارغ کیا ‘ اس سے پہلے یا بعد کسی سیاسی جماعت میں ایسا نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے وزیراعظم نے سپریم کورٹ سے راہنمائی لینے ‘ قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے اور صدارتی آرڈینیس کا اجراءبھی کیا گیا ‘اگر اپوزیشن جماعتیں بھی اتفاق کر لیتیں توآج سینٹ الیکشن شفاف ہوسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مفاد میں نہیں کہ الیکشن شفاف ہوں اور اس میں یپسوں کا اثرورسوخ نہ ہو ‘ وہ ایسے لوگوں کو منتخب کرانا چاہتے ہیں جو اہلیت رکھتے ہوں اور نہ قابلیت رکھتے ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے 2018کے سینٹ الیکشن اور حالیہ سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریدوفروخت پر کتنے اراکین کو اپنی پارٹی سے نکالا ہے ‘ انہی سیاسی جماعتوں نے ملک کو معاشی ‘اخلاقی ‘سیاسی اور ادارتی طور پر کھوکھلا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ثابت قدم ہیں ‘22سال پہلے جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا آج وہ کامیابی کے مرحلے میں پہنچ چکی ہے ‘آج قومی اسمبلی اور سینٹ کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی بن چکی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا وطیرہ رہا جو الیکشن جیتے وہ ٹھیک اور ہاریں تو دھاندلی ہوتی ہے ۔


انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے کہا گیا کہ ان کا ٹکٹ چلا ہے ‘ وہ اپنا وزن بڑھا رہے ہیں‘ ن لیگ کے ٹکٹ تو کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہورہے ہیں ۔نوٹ کو ٹکٹ سے تشبیہ دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔انہوں نےکہا کہ چھ ووٹوں پر عدم اعتماد کی باتیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ جیلوں سے نکلتے ہیں تو وکٹری کا نشان بناتے ہیں ‘اس کلچر کا خاتمہ عمران خان کرنا چاہتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے امیدوار کے لئے اتحادیوں سے مشورے کے بعد اعلان کرینگے ‘ صادق سنجرانی کا تعلق بلوچستان سے ہونے اور گذشتہ تین سالوں کے دوران متوازن انداز سے ہاؤس چلانے پر انھیں دوبارہ چیئرمین سینٹ کےلئے امیدوار نامزد کیا ہے۔

2 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved