• 24newspk

میرا شمار عظیم ترین بولرز میں ہوتا ہے،مگر پاکستان میں سوشل میڈیا پر میچ فکسر کہا جاتا ہے،وسیم اکرم


ویب ڈیسک (24 نیوز پی کے) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور دنیا ئے کرکٹ کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر ٹیم وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ "میرا شمار عظیم ترین بولرز میں ہوتا ہے مگر پاکستان میں سوشل میڈیا کی نسل میچ فکسر کہتی ہے"۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نےآسٹریلین ٹیلی ویژن پروگرام "وائڈ ورلڈ آف سپورٹس" کو انٹرویو دیتے ہوئے کیریئر میں خود پر لگائے گئے میچ فکسنگ کے الزامات کے بارے میں بات کی، سابق کپتان نے اعتراف کیا کہ ان پر لگے الزامات نے ہی انہیں اپنی سوانح عمری، "سلطان اے میموئر" لکھنے کی طرف راغب کیا۔

سابق کپتان وسیم اکرم نے انٹرویو میں کہا کہ 'آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور بھارت میں میرا نام دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین باؤلرز میں شمار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا کی یہ نسل مجھے میچ فکسر کہتی ہے'۔سابق کرکٹر نے کہا 'سوشل میڈیا پر لوگ اب بھی کمنٹس کرتے ہیں اور کہتے ہیں اوہ یہ تو میچ فکسر ہے، مجھے نہیں معلوم ایسا کیوں کیا جاتا ہے، اپنی زندگی میں ایسا دور گزارا ہے جب مجھے لوگوں کی فکر ہوا کرتی تھی کہ وہ کیا کہیں گے'۔

Web Desk (24 News PK) Former captain of Pakistan cricket team and famous fast bowler of the world cricket team Wasim Akram says that "I am counted among the greatest bowlers but in Pakistan the generation of social media says match fixer. ".

According to the details, Wasim Akram, the former captain of the Pakistan cricket team, gave an interview to the Australian television program "Wide World of Sports" and talked about the match-fixing allegations made against him in his career. The allegations prompted him to write his autobiography, "Sultan a Memoir".


Former captain Wasim Akram said in an interview that "in Australia, England, West Indies and India, my name is considered among the greatest bowlers in the world of cricket, but in Pakistan this generation of social media calls me a match fixer". "People still comment on social media and say 'oh it's a match-fixer, I don't know why it's done, there was a time in my life when I was worried about what people would say,'" he said. '.

20 views0 comments