• 24newspk

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2021 میں کس کی کیا کارکردگی رہی؟کس نے مارے چھکے اور کس نے وکٹیں اڑائیں؟

Updated: Jul 21


ویب ڈیسک (24 نیوز پی کے)ورلڈ ٹی 20 کا ساتواں ایڈیشن 23اکتوبر سے 14 نومبر تک یو اے ای میں کھیلا گیا،یہ ورلڈ کپ بھارت میں کھیلا جا نا تھا کورونا کےبڑھتے کیسز کی وجہ سے ایونٹ کو یو اے ای میں شفٹ کیا گیا۔ایونٹ میں 12 ٹیمیں شامل تھیں ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔گروپ ایک میں انگلینڈ ،آسٹریلیا ،جنوبی افریقہ،سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور بنگلادیش شامل تھیں۔دوسرے گروپ میں پاکستان ،بھارت، نیوزی لینڈ،افغانستان،نمیبیا،اسکاٹ لینڈ شامل تھیں۔



ورلڈ کپ میں سب سے اہم میچ پاک بھارت تھا جس میں پاکستان نے بھارت کو پہلی دفعہ ورلڈ کپ میں 10 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ رقم کر دی اور ایونٹ کی فیورٹ ٹیم بن گئی۔پاکستان اپنے گروپ میں ٹاپ ٹیم تھی اور کوئی میچ نہیں ہارا تھا اور سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ ہار گیا تھا اس کے مقابلے میں بھارت جو ورلڈ کپ سے پہلے سب سے زیادہ فیورٹ تھی اور لوگ یہی سمجھ رہے تھے یہ ورلڈ کپ بھارت کا ہی ہے لیکن ان کی امیدوں پر پاکستان نے پانی پھیر دیا ٹیم کو اتنا پریشر میں ڈال دیا کہ نیوزی لینڈ سے بھی ہارگئی اور پہلےراؤنڈ میں ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی ۔پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی نے بھارت کے خلاف عمدہ باؤلنگ کی اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا۔


دوسرے میچ پاکستان کا نیوزی لینڈ کے ساتھ تھا جس کو شائقین کو بے صبری سے انتظار تھا کیوں کے نیوزی لینڈ سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر میچ شروع ہونے سے چند لمحے قبل دورہ ملتوی کر کے واپس چلی گئی تھی شائقین گراؤنڈ میں بیٹھ کر انتظار کرتے رہے ۔ورلڈ کپ میں پاکستان نے نیوز ی لینڈ کو شکست دے کر سیکیورٹی کا مسئلہ حل کر دیا تھا اور میچ کے دوران شائقین سیکیورٹی سیکیورٹی کے نعرے لگاتے رہے۔پاکستان نے افغانستان کو بھی شکست دی اس میچ میں آصف علی نے ایک اوور میں چار چھکے لگا کر سب کی توجہ اپنی طرف کروا دی۔پاکستان ٹیم نے نمیبیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد ان کے ڈریسنگ روم میں گئی اور ان کی ورلد کپ میں پہلی دفعہ کوالیفائی کرنے اور اچھی پرفارمنس دکھانے پر مبارکباد دی اور ان کی حوصلہ افرزائی کی۔



دونوں گروپوں سے چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی ہوئیں جن میں گروپ اے میں آسٹریلیا اور انگلینڈ جبکہ دوسرے گروپ میں سے پاکستان اور نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچی تھیں،پہلے سیمی فائنل میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ ہوا جس میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں نیوزی لینڈ کا سامنا کیا۔فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو بڑی آسانی سے 8 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی دفعہ ٹی 20 کا چیمپئن بنا۔آسٹریلیا کے آلراؤندر مچل مارش کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ ڈیوڈ وارنر کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔


کچھ نظر ڈالتے ہیں ٹیموں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تو سب پہلے بات کرتے ہیں ٹیموں کی تو سب سے زیادہ اسکور بھارت نے بنایا ،بھارت نے 210 رنز افغانستان کے خلاف بنائے،کم ترین اسکور نیدرلینڈ کا تھا ،نیدرلینڈ نے سری لنکا کے خلاف 44 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی ۔ بڑے مارجن(وکٹوں ) سے جیتنے والی ٹیم پاکستان اور عمان تھی ،پاکستان نے رویتی حریف بھارت کو 10 وکٹوں سےشکست دی تھی۔بڑے مارجن (رنز) میں افغانستان نے 130 رنز سے میچ جیتا۔ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ میچ آسٹریلیا نے جیتے انہوں نے 6 میچوں میں کامیابی حاصل کی جس میں فائنل بھی ہے۔سب سے ایکسٹرا رنز بنگلادیش نے دیے انہوں نے 8 میچوں میں 70 رنز دیے۔



ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بابر اعظم نے بنائے انہوں نے 303 رنز بنائے جس میں 4نصف سنچریاں اسکور کیں ،ورلد کپ میں ایک ہی سنچری اسکور کی گئی وہ انگلینڈ کے بٹلر نے اسکو ر کی،سب سے زیادہ چھکے بھی جوز بٹلر نے ہی مارے انہوں نے 13 چھکے مارے اور سب سے زیادہ چوکے ڈیوڈ وارنر نے مارے انہو ں نے 32 چوکے مارے۔سب سے زیادہ اسٹرائیک ریٹ آصف علی کا تھا انہوں نے 237.50 تھا۔سب سے زیادہ بیٹنگ ایورج جوز بٹلر کی تھی ان کی ورلڈ کپ میں بیٹنگ ایورج 89.66 تھی ۔سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ پر ہونے والے کھلاڑی اسکاٹ لینڈ کے رچی برنگٹن تھے وہ ورلڈ کپ میں تین دفعہ آؤٹ ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ وکٹیں سری لنکا کے ونندو ہسرنگا نے لیں انہوں نے 13 وکٹیں حاصل کیں، میچ میں بہترین باؤلنگ آسٹریلیا کے ایڈم زمپا کی ہے انہوں نے بنگلادیش کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کیں۔سب سے زیادہ کیچ اسکاٹ لینڈ کے کالم میکلیوڈ نے پکڑے انہوں نے 8 کیچ پکڑے۔وکٹ کیپنگ میں سب سے زیادہ آسٹریلیا کے میتھیو ویڈے نے 9 کھلاڑی آؤٹ کیے۔


160 views0 comments