• 24News pk

وزیراعظم عمران خان کا صنعتوں کیلئے بڑے ریلیف پیکج کے تحت انہیں سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان


اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے صنعتوں کیلئے بڑے ریلیف پیکج کے تحت انہیں سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم نومبر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اضافی بجلی پر 50 فیصد اور بڑی صنعتوں کو 25 فیصد رعایت ملے گی، ماضی میں مہنگی بجلی بنانے کے معاہدے کئے گئے جس کے باعث صنعتوں کو مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے، اس پیکیج سے ملک میں صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت ترقی کرے گی، ملک میں کورونا وائرس کی وبا کی شدت میں تیزی آ رہی ہے، شہری عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال یقینی بنائیں، کورونا وائرس کی وبا کے دوسرے مرحلہ کے تناظر میں کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے۔ یہ بات انہوں نے صنعتوں کے لئے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہی۔


وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صنعتوں کیلئے پیکیج کا اعلان کر رہے ہیں جو کہ صنعتکاروں کیلئے خوشخبری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلہ میں 25 فیصد مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کے باعث ہم برآمدات کے شعبہ میں اپنے ہمسایہ ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ماضی میں بجلی بنانے کیلئے مہنگے معاہدے کئے گئے جس کے باعث بجلی مہنگی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے ہماری صنعتوں کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے، ملکی برآمدات میں مہنگی بجلی کے باعث کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 25 ارب ڈالر سے 20 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں، برآمدات زیادہ ہوں تو اس سے دولت کی فراوانی اور ملکی معیشت مستحکم جبکہ روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی عمل کی ترقی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، صنعتی شعبہ کیلئے ایک پیکیج تیار کیا ہے، حکومت نے پہلے بھی برآمدکنندگان کو پیکیج دیا ہے، برآمدات میں اضافہ کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے تحت یکم نومبر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ملنے والی اضافی بجلی پر 50 فیصد جبکہ بڑی صنعتوں کیلئے اضافی بجلی پر 25 فیصد رعایت ہو گی، صنعتی شعبہ کیلئے بجلی کا کوئی پیک آور نہیں ہو گا، تمام صنعتوں کو اگلے تین سال کیلئے رعایتی نرخوں پر بجلی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اس پیکیج سے برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کے باعث گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، تعمیراتی شعبہ آگے بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، روزگار ملنے سے غربت کم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا سے خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، ریستوران، شادی گھر اور سیاحت کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے کیونکہ اس سے دولت پیدا ہوتی ہے، قرضوں کی ادائیگی میں استعداد کار میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد ملکی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے حالانکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے عالمی سطح پر معیشتیں متاثر ہوئی ہیں، کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث پوری دنیا مشکل وقت سے گزر رہی ہے، دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، پاکستان میں بھی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ عوامی مقامات پر فیس ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔


انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دیگر ممالک میں کورونا کا پھیلائوبہت زیادہ رہا تاہم پاکستان میں اﷲ کے کرم سے حکومت نے دانشمندانہ فیصلے کئے جس کے باعث صورتحال قابو میں رہی تاہم اگر لاپرواہی کی گئی تو اس سے وبا پھر پھیلے گی اور ملک کا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوسرے مرحلہ کے تناظر میں کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے، صنعتوں کا پہیہ ایس او پیز کے ساتھ چلتا رہے گا۔ وزیراعظم نے صنعتوں کیلئے شاندار پیکیج تیار کرنے پر اپنی معاشی ٹیم کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر وفاقی وزرا اسد عمر، حماد اظہر، عمر ایوب اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی اظہار خیال کیا۔

Drop Me a Line, Let Me Know What You Think

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved