• 24News pk

وزیراعظم عمران خان کا ’’پانی کے پنکھ‘‘ ڈاکومنٹری ڈرامہ کی تقریب رونمائی سے خطاب


اسلام آباد۔28جنوری (24 نیوز پی کے-اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، ملک میں طویل مدتی پالیسیوں کا نہ ہونا ہمارے لئے المیہ ہے، ماضی کی حکومتوں کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھی، ایسے معاہدے کئے گئے تھے بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ادائیگیاں ہر حال میں کرنا پڑتی ہیں، ماضی کی حکومتوں کی طرف سے لئے گئے قرضوں پر سود کی مد میں 6 ہزار ارب روپے ادا کئے ہیں، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قرضوں میں تین ہزار ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا، کورونا کی وجہ سے محصولات کی وصولی میں 800 ارب روپے کی کمی ہوئی، پاکستان میں بے پناہ مواقع ہیں، خود دار قوم بن کر ملک کو پائوں پر کھڑا کرنا ہو گا، سسٹم کو ٹھیک کرنے اور پرانی عادتیں تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے، لوگ مطمئن رہیں فکرنہیں کرنی چاہئے کہ تبدیلی ابھی نہیں آئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ’’پانی کے پنکھ‘‘ ڈاکومنٹری ڈرامہ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانچ سال کے انتخابات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانے کا یہ المیہ ہے کہ ماضی میں ہمارے ملک میں طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی تھی، ہر ملک طویل مدتی منصوبہ بندی سے ہی ترقی کرتا ہے، چین اگر دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ترقی کا ماڈل طویل منصوبہ بندی ہے، طویل منصوبہ بندی کئے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، ہمارے ملک میں یہ کوشش رہی ہے کہ جو بھی منصوبہ شروع کیا جائے وہ پانچ سال میں مکمل ہو جائے تاکہ لوگوں کو دکھایا جا سکے کہ ہم نے یہ کام کئے ہیں، پھر اربوں روپے اشتہارات پر خرچ کرکے الیکشن جیتنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سےملک کو نقصان ہوا ہے، پاکستان میں پن بجلی سستی پیدا کی جا سکتی تھی، ڈیم اور آبی ذخائر بن سکتے تھے لیکن اس طرف توجہ نہیں دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں بننے والی بجلی برصغیر میں سب سے مہنگی ہے، اس کے علاوہ ایسے معاہدے کئے گئے کہ چاہے ہم بجلی خریدیں یا نہ خریدیں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ہر حال میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے، 2013 میں کیپسٹی پیمنٹ کی رقم 180 ارب روپے تھی، جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو یہ 500 ارب روپے تک پہنچ گئی اور 2023 میں کیپسٹی پیمنٹ کی رقم 1500 ارب روپے ہو جائے گی، موسم سرما میں بجلی کا استعمال 8 سے 9 ہزار میگاواٹ ہوتا ہے جبکہ موسم گرما میں 24 ہزار میگاواٹ تک بجلی استعمال ہوتی ہے، موسم سرما میں اگر ہم بجلی استعمال نہیں کرتے تو اس کی بھی ادائیگی کرنا پڑتی ہے، اسی وجہ سے بجلی مہنگی ہوئی ہے، مختصر مدت کی حکمت عملی میں بدعنوانی بھی تھی اور تمام فیصلے اگلے الیکشن کو سامنے رکھ کر کئے جاتے تھے، موجودہ حکومت نے 50 سال کے بعد دو بڑے ڈیمو ں پر کام شروع کیا ہے، مہمند ڈیم سے پانی کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالہ سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے، تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا حالانکہ پاکستان میں پن بجلی کی پیداواری استعداد 70 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے ، اگر وقتاً فوقتاً ڈیم بناتے رہتے تو ایسی صورتحال نہ ہوتی کہ اگر آج ہم اپنی صنعتوں کو سبسڈی نہ دیں تو بھارت اور بنگلہ دیش کے صنعتوں کا مقابلہ ہی نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں بجلی کی قیمت پاکستان سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پن بجلی صاف توانائی ہے جو ماحول کیلئے بہت اہم ہے، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہے اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل میں پانی کی دستیابی کے حوالہ سے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس سے زراعت بھی متاثر ہو سکتی ہے اس لئے پانی کے تحفظ اور ڈیم بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ 60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور ہمارے پاس سستی بجلی تھی جس سے صنعتیں چل رہی تھیں، 90 کی دہائی میں ملک میں تباہی ہوئی، 2008 سے 2018 تک تاریک ترین دور ہے جس میں ملک کے ادارے تباہ ہوئے، قرضے بڑھے اور آج جو ملک پر بوجھ ہے انہیں قرضوں کی وجہ سے ہے جن کا بھاری سود ہمیں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو ملک کے ذمہ 30 ہزار ارب روپے کی ادئیگیاں تھیں اور قرضے 25 ہزار ارب روپے تھے جو بڑھ کر 36 ہزار ارب روپے تک چلے گئے ہیں، موجودہ حکومت کے دور میں 11 ہزار ارب روپے کے قرضے بڑھے ہیں جن میں 6 ہزار ارب روپے پرانے قرضوں کا سود اتارنے کیلئے لینا پڑے ہیں اور 3 ہزار ارب روپے کے قرضوں میں اضافہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر موجودہ حکومت کی وجہ سے کم نہیں ہوئی بلکہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو 60 ارب ڈالر کی درآمدات اور 20 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں اور یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ تھا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کی وجہ سے ہی روپے کی قدر کم ہوئی، اس کے علاوہ کووڈ کی وجہ سے محصولات کی وصولی میں 800 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے جبکہ حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے معاشرہ کے غریب طبقات کو ریلیف بھی فراہم کیا ہے، لوگوں کو قرضوں کی اصل صورتحال کے حوالہ سے علم ہونا چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا درست تشخص اجاگر کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہئے کہ درست تشخص اجاگر کرنے سے دنیا کوئی ہمیں بہت زیادہ فائدہ دے دے گی، ہمیں احساس کمتری کی بجائے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا ہو گی، پرویز مشرف کے دور میں روشن خیال اعتدال پسندی کی بات کی جاتی تھی اور یہ لفظ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار سنا تھا اور یہ سمجھا جانے لگا کہ اگر ہم مغرب کی طرح بنیں گے تو بہتر لگیں گے حالانکہ اس کو احساس کمتری کہتے ہیں اعتدال پسندی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خود دار قوم کا تشخص اجاگر کرنا ہے جو اپنے پائوں پر کھڑی ہو جس میں اعتماد ہو اور وہ اپنے بہتر مستقبل پر یقین رکھتی ہو، اس کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، خود دار قوم کسی سے قرضے نہیں لیتی نہ ہی بھیک مانگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی غلطی کی اور کسی کی جنگ میں شریک ہوئے جو ہماری جنگ تھی ہی نہیں، پاکستان کا نائن الیون سے کیا تعلق تھا، دبائو کی وجہ سے اس جنگ میں شریک ہوئے، پہلے 80 کی دہائی میں بھی ایسا ہی کیا تھا، ایک وقت میں مجاہدین ہیروز تھے اور پھر نائن الیون کے بعد انہیں دہشت گرد کہا جانے لگا، کبھی کسی کے دبائو میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس کےنتیجہ میں غلط فیصلوں سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جب تک ٹیکس نہیں دیں گے تعلیم عام نہیں ہو گی، بنیادی ڈھانچہ بہتر نہیں ہو سکے گا اور عوام کو بہتر علاج کی سہولیات مہیا نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ مواقع ہیں، اپنی فلم انڈسٹری کی ترقی کیلئے پوری مدد کریں گے، قومی اقدار کے فروغ کیلئے ڈاکومنٹریز اور فلمیں بنائی جائیں، ایک وقت میں پاکستان ٹیلی ویژن سارے ہندوستان میں دیکھا جاتا تھا، ہماری فلم انڈسٹری بھی بہت اچھی تھی لیکن وہ پیچھے رہ گئی ہے، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کی فلموں کی نقل شروع کر دی گئی، نصرت فتح علی خان اور ہمارے نوجوانوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں بہت ٹیلنٹ ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کے خلاف 24 ون ڈے میچوں میں انہوں نے کپتانی کی جن میں سے 19 جیتے اور ایک ٹائی ہوا، ہم بھارت سے ہمیشہ ہر شعبے میں بہتر تھے لیکن جب مجرم ملک کے حکمران بن جائیں تو کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، بیرون ملک پاکستانیوں نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لواہا منوایا ہے، ہم نے ملک کے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے جو میرٹ کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرے، نظام کو ٹھیک کرنے اور پرانی عادتیں تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے لیکن لوگ مطمئن رہیں، فکر نہیں کرنی چاہئے کہ تبدیلی ابھی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل میں سیاحت کا مرکز تصور کیا جا رہا ہے، دو بڑے ڈیموں کی تعمیر ایک بڑا چیلنج ہے ، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین جس جذبے اور جنون سے اس چیلنج سے نبرد آزما ہو رہے ہیں اس پر ملک انہیں ہمیشہ یاد رکھے گا۔

3 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved