• 24News pk

وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، شہباز گل اور فیاض الحسن چوہان کا پریس کانفرنس سے خطاب



وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، شہباز گل اور فیاض الحسن چوہان کا پریس کانفرنس سے خطاب لاہور۔22 اگست (اے پی پی )وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت کسی کو این آر او دے گی نہ کسی سے بلیک میل ہو گی‘ اپوزیشن منی لانڈرنگ کے معاملے پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے‘ منی لانڈرنگ پر کوئی نئی عدالت نہیں بنائی جارہی بلکہ منی لانڈرنگ قوانین کا ترمیمی بل حکومت پیش کرنے جارہی ہے جس پر اپوزیشن تعاون نہیں کر رہی‘ نواز شریف سیاست میں نہیں آسکتے کیونکہ وہ تاحیات نااہل ہیں‘ مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکن اپنی گاڑیوں میں پتھر لیکر آئے جسے میڈیا نے دکھایا‘ اسحاق ڈار‘ علی عمران‘ سلمان شہباز سمیت تمام جلد پاکستان واپس آئیں گے‘ جب بھی اداروں نے طلب کیا تو جہانگیر ترین بھی پاکستان میں ہونگے‘ وزیر اعلیٰ پنجاب مجرم ہیں نہ ملزم، نیب نے جب بھی بلایا وہ پیش ہونگے‘ نواز شریف لندن کی سڑکوں پر جبکہ ان کی صاحبزادی ٹوئٹر پر متحرک ہیں‘ نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے برطانوی حکومت کو مراسلہ لکھ دیا ہے‘ وہ ہفتہ کے روز ایوان وزیر اعلیٰ 90‘ شاہراہ قائد اعظم میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے‘ معاون خصوصی شہباز گل اور صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان بھی ان کے ہمراہ تھے‘ شہزاد اکبر نے کہا کہ 29 اکتوبر 2019ءکو نواز شریف کو میڈیکل گراﺅنڈ پر ضمانت پر رہا کیا تاکہ وہ لندن علاج کرا کر 8 ہفتوں میں واپس آجائیں‘ 16 نومبر 2019ءکو لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف نے گارنٹی دی کہ نواز شریف علاج کرا کر واپس آئیں گے اور 4 ہفتوں بعد ان کے علاج کی تفصیل بھی عدالت اور حکومت کو جمع کروا دی جائیگی‘ 23 دسمبر 2019ءکو جب پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کی درخواست دی تو اس پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں نواز شریف کے ڈاکٹر بھی شامل تھے‘ میڈیکل بورڈ نے پنجاب حکومت کو بتایا کہ انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں جس کی بناءپر ضمانت میں توسیع نہ کی جائے جس پر 27 فروری 2020ءکو پنجاب حکومت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے اور آپ ایک سزا یافتہ مجرم ہیں لہٰذا اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کر یں‘ انہوں نے بتایا کہ 2 مارچ 2020ءکو برطانوی حکومت کو نواز شریف کی واپسی کے حوالہ سے ایک مراسلہ بھی لکھا جاچکا ہے جس میں عدالت کا فیصلہ بھی ساتھ منسلک ہے کہ نواز شریف اس وقت مفرور ہیں‘ انہوں نے بتایا کہ سزا یافتہ مجرم جسے 2 کیسوں میں سزا ہوئی، اس وقت لندن کی سڑکوں پر گھوم پھررہا ہے جو کہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے اور حکومت انہیں واپس بلانے کیلئے تمام قانونی طریقے اختیار کریگی‘ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جب تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا تھا جسے بلیک لسٹ کی طرف لے جایا جارہا تھا اگر یہ ہو جاتا تو پاکستان مالیاتی طور پر پوری دنیا سے کٹ جاتا‘ ہماری حکومت نے بڑی ذمہ داری سے اس کو لیا اور بہتری کی کوشش کی‘ ایف اے ٹی ایف نے بتایا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کو روکنے کا بہتر نظام نہیں ہے جس کی بناءپر کارروائی کی گئی ہے‘ انہوں نے کہا کہ جب حکمران خاندان کے فرد منی لانڈرنگ میں ملوث ہوںاور فالودے والوں کے نام پر کروڑوں روپے کے اکاﺅنٹ کھل رہے ہوں تو اس وقت ملک کی کیا صورتحال ہو گی‘ انہوں نے کہا کہ نام نہاد خادم اعلیٰ پر بھی منی لانڈرنگ کے کیس تھے ‘ شہزاد اکبر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ تمام جرائم کی ماں ہے جسے کسی بھی نظام میں برداشت نہیں کیا جاسکتا اور تحریک انصاف کی حکومت بھی منی لانڈرنگ کیخلاف پوری دنیا کی طرح برسر پیکار ہے‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو دکھانا ہے کہ ہم منی لانڈرنگ کو سیریس لیکر اس کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن اس کو سنجیدہ نہیں لے رہی اور اب ہم جو قانون سازی کرنے جارہے ہیں اپوزیشن اس میں تعاون نہیں کر رہی‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نہ تو کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہو گی اور نہ ہی کسی کو این آر او دیا جائیگا اور یہ قانون ہر صورت پاس ہو گا‘ خواہ اپوزیشن اس میں شامل نہ ہو‘ معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ شہباز گل نے بتایا کہ نواز شریف میڈیکل ٹیسٹوں میں جعلسازی کرکے باہر گئے ہیں‘ انہوں نے EDTA میں بنیادی طور پر سیمپل دیتے وقت فراڈ کیا اور پلیٹ لیٹس کم ظاہر کرکے ہمدردیاں سمیٹیں‘ جدہ جاتے وقت عوام سے فراڈ کیا اور لندن جاتے وقت ڈاکٹروں سے فراڈ کر گئے‘ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپنی ذات کی خاطر روڑے اٹکائے جارہے ہیں جبکہ ہمیں ملک کی خاطر ایف اے ٹی ایف سے تعاون کرنا چاہئے‘ انہوں نے کہا کہ نواز شریف خود تو لندن بھاگ گئے اور اپوزیشن رہنماﺅں کو مشورے دے رہے ہیں کہ نیب میں پیش نہ ہوں اور جیل بھرو تحریک چلائیں‘ بیگم صفدر نے بلٹ پروف گاڑی کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی‘ ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے بتایا کہ برطانیہ کا پاکستان کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا قانون موجود ہے تاہم کوئی مجرم دوائی لینے جائے اور واپس نہ آئے ایسا قانون ابھی نہیں بنا‘ نواز شریف لندن کی سڑکوں پر جبکہ ان کی صاحبزادی ٹوئٹر پر متحرک ہیں‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اداروں کو آزادی دی ہوئی ہے اور ادارے اپنا کام کر رہے ہیں‘ اسحاق ڈار‘ علی عمران اور سلمان شہباز سمیت تمام جلد پاکستان واپس آئیں گے جب بھی اداروں نے طلب کیا تو جہانگیر ترین بھی پاکستان ہوں گے‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ملزم ہیں اور نہ ہی مجرم جب بھی ان کو نیب نے طلب کیا وہ پیش ہونگے اور اب بھی وہ پورا تعاون کر رہے ہیں۔


Drop Me a Line, Let Me Know What You Think

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved