• 24News pk

وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ


اسلام آباد۔2فروری (24 نیوز پی کے-اے پی پی):وفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 192ملکوں کے لئے پاکستانی ویزہ کو آن لائن کرنے کی سفارشات ، نیشنل ایسٹ منیجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے لئے مسودہ وزارتِ قانون کو بھجوانے ،تصفیے کے متبادل نظام کے حوالے سے قانون کے تحت غیر جانبدار شخصیات پر مشتمل پینل کی تشکیل کی منظوری دیدی ہے ، کابینہ نے لاپتہ افراد کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کو چھ ہفتوں میں اپنی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کے معاملے کے مستقل حل کے حوالے سے پرعزم ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں لاپتہ افراد کا کوئی واقعہ نہ ہو، وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ایوان بالا میں پیسے کے ذریعے آنے کا راستہ ہمیشہ کے لئے روکا جائے اس کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع اور آئینی ترامیم کر نے جارہے ہیں ،ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے مرحوم شاہد گوندل کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی۔اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف شخصیات کو فراہم کردہ پولیس اسکواڈ کی تمام تر تفصیلات طلب کی جائیں تاکہ اس نظام کو منظم (ریشنلائز) کیا جا سکے۔


وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر ضروری پولیس اسکواڈ کی فراہمی ریاستی وسائل کاضیاع ہے جو کہ موجودہ حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ قبضہ مافیا کے خلاف جاری مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مختلف وزرانے بتایا کہ سول ایوی ایشن ، ریلوے وغیرہ جیسے سرکاری محکموںکی ہزاروں ایکٹر اراضی غیر قانونی قبضے میں ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ ڈھائی سال میں اربوں روپے کی سرکاری اراضی واگذار کرائی گئی ہے۔ کابینہ کے سامنے صوبہ پنجاب میں واگذار کرائی جانے والی اراضی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں اب تک 210 ارب روپے کی زمین واگذار کرائی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بدقسمتی سے ماضی میں نہ صرف قبضہ مافیا کی سرکاری سطح پر سرپرستی کی گئی بلکہ بعض سیاسی پارٹیوں کی شخصیات بھی غیر قانونی قبضوں میں ملوث رہی ہیں۔ اب تک36 سیاسی شخصیات سے 24ارب روپے مالیت کی آٹھ ہزار ایکٹر اراضی واگذار کرائی گئی ہے۔ اجلاس کے سامنے سابقہ حکومت سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات اور ان کے قبضے سے واگذار کرائی جانے والی اراضی کی تفصیلات پیش کی گئیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سرکاری اراضی کا مکمل ریکارڈ رکھنے، سرکاری املاک کوغیر قانونی قبضوں سے واگذار کرانے اور ان کا موثر استعمال یقینی بنانے کے لئے نیشنل ایسیٹ منیجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے مجوزہ قانون کا مسودہ وزارتِ قانون کو بھجوا دیا گیا ہے۔ وزارتِ قانون کی منظوری سے مسودے کو قانون کی شکل دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ کابینہ کو نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کے تحت جاری مختلف منصوبوں خصوصاً کم آمدنی والے افراد کو ذاتی چھت کی فراہمی کے حوالے سے شروع کیے گئے منصوبوں میں اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو کم آمدنی والے افراد کے لئے کم لاگت کے گھروںکے حوالے سے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مختلف مراعات جن میں ٹیکس مراعات، بنک فنانسنگ، مارک اپ سبسڈی، منظوریوں کے عمل کو آسان بنائے جانے جیسے اقدامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ مارک اپ کی مد میں آدھے سے زیادہ رقم حکومت کی جانب سے دی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی کی مد میں چھتیس ارب روپے دیے گئے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں تین سے چار ماہ کے دوران تقریبا ً 650منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ صوبہ سندھ میں یہ تعداد اب تک 19ہے۔چئیرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے مراعات اور اقدامات کے بعد نجی شعبے کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اراضی کے علاوہ نجی زمینوں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہاﺅسنگ یونٹس کی تعمیر کے حوالے سے اب تک 57تجاویز موصول ہوئیں جن میں سے 34منصوبوں کو منظور کیا جا چکا ہے۔


ان منصوبوں کے تحت بیس ہزار سے زائد کنال اراضی پر تریسٹھ ہزار سے زائد یونٹس تعمیر ہوں گے۔اربن علاقوں میں صوبوں کی جانب سے اٹھارہ ہزار کنال سے زائد کی راضی سے متعلق 45منصوبے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاﺅسنگ منصوبوں کے حوالے سے 23مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب کی جانب سے ساڑھے نو ہزار کنال کی پیری اربن(Peri-Urban) اراضی فراہم کی گئی ہے جس سے متعلق 87منصوبے ہیں۔ وزارتِ ہاﺅسنگ کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ سالہا سال سے التوا کا شکار منصوبوں پر کام کے آغاز کے نتیجے میں پینتیس ہزار یونٹس جن کی مالیت 139.71ارب روپے ہے کام جاری ہے ان میں سے اکثر منصوبے دو سال میں مکمل کر لیے جائیں گے۔ وزارتِ ہائوسنگ کی جانب سے گذشتہ اور رواں سال شروع کیے جانے والے منصوبوں کے نتیجے میں کل ایک لاکھ چھتیس ہزار سے زائد یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ان منصوبوں کی کل مالیت 657.49ارب روپے ہے (ان میںالتوا کا شکار منصوبوں والے یونٹس بھی شامل ہیں)۔ اس کے علاوہ اب تک 229,295ہاﺅسنگ یونٹس، جن کی مالیت 830ارب روپے ہے، کی تعمیر کے منصوبوں میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے جن پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ نے کابینہ کو ملک بھر کے مختلف حصوں میں شروع کیے جانے والے منصوبوں کے بارے میں بریف کیا۔ اس کے علاوہ اربن ریجنریشن کے حوالے سے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہاﺅسنگ و تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے شروع کیے جانے والے منصوبوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔ کابینہ نے پرائم منسٹر ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت سکولوں کے بچوں کے لئے حکومت کی جانب سے مہیا کردہ دو سو بسوں کو چلانے کے حوالے سے پالیسی کی منظوری دی۔ اس پالیسی کے تحت متعلقہ سکولوں کی سکول منیجمنٹ کمیٹی ان بسوں کاانتظام دیکھے گی۔ کابینہ کو گمشدہ افراد (مسنگ پرسنز) کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کے قیام سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ کابینہ نے کمیٹی کو چھ ہفتوں میں اپنی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مسنگ پرسنز کے معاملے کے مستقل حل کے حوالے سے پرعزم ہے کہ موجودہ حکومت کے دورِ حکومت میں مسنگ پرسنز کا کوئی واقعہ نہ ہو۔ آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن ایکٹ 2017(تصفیے کے متبادل نظام کے حوالے سے قانون) کے تحت کابینہ نے مندرجہ ذیل غیر جانبدار (نیوٹرل) شخصیات پر مشتمل پینل کے قیام کی منظوری دی جن میں جسٹس (ر)مولوی انوارالحق، ایڈوکیٹسطاہر عباسی، شیرین عمران،حمیرا مسیح الدین، حافظ عرفات احمد، ہادیہ عزیزاور نتالیہ شامل ہے۔


اجلاس نے کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے 26جنوری2021کے فیصلوں، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28جنوری2021کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔مذکورہ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ریلیف پیکیج کے تحت بنیادی اشیائے ضروریہ کے ضمن میں حکومتی سبسڈی کے موثر نظام، زائرین منیجمنٹ پالیسی اور ٹیرف ریشنلائزیشن فار پاور سیکٹر جیسے اہم معالات کے حوالے سے فیصلے کیے گئے تھے۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے21جنوری2021کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔کابینہ نے فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈیننس 2020کے تحت بورڈ آف گورنرکے ممبران کی دو خالی آسامیوں پر ڈاکٹر سمیح خان اور پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کو تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے کراچی میں واقع ریلوے اراضی کی لیزکے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے وزیرِ ریلوے، وزیر برائے نجکاری، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری قانون پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی۔کابینہ نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 45(کرم – I) اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے – 63 پر ضمنی انتخابات کے دوران فرنٹئیر کور خیبرپختونخواہ کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ویزہ پالیسی کو مزید سہل بنانے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 192ملکوں کے لئے پاکستانی ویزہ کو آن لائن کر دیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہ ہماری حکومت آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے،میڈیا ایک ذریعہ ہے جو حکومتی اقدامات کو عوام تک پہنچاتے ہیں ،کسی بھی حکومت میں یہ ذریعہ کسی بھی طرح سے متاثر ہو تو یہ ناپسندیدہ عمل ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 31جنوری گذرگئی ہے اب میڈیا اپوزیشن سے پوچھے کہ استعفے کہاں پر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میلوڈی ،آبپارہ راستہ بندش معاملے پرافہام و تفہیم کے لئے بات چیت جاری ہے ، ایک ماہ میں اچھی خبر ملے گی ، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو نو گو ایریا ہو۔


انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹنگ کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے دوسری جانب آئینی ترامیم کی طرف بھی جارہے ہیں، ہمارا مقصد اس بات تعین کرنا ہے کہ کون کس طرف کھڑا ہے ۔ ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں کہ حکومت خود ایسا قدم اٹھائے ، پیسوں سے ذریعہ سینٹ میں آنے کاراستہ ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہے اس کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ سینٹ الیکشن شفاف ہو ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی سے بل پاس ہونے کے بعد پارلیمانی روایات کے مطابق ایوان میں منظورہوتا ہے ، صحافیوں سے متعلق بل قائمہ کمیٹی سے پاس ہو گیا، قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن بھی تھی لیکن ایوان میں جاکر اپوزیشن نے صحافیوں سے متعلق بل کو مسترد کر دیا ،سینٹ کے الیکشن کے بعد اس سمیت دیگر اہم قانون سازی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے مہنگائی سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہیں، مہنگائی میں کمی ہوئی ہے ،درآمد ہونے والی اشیاءکی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھتی ہے تو اسکا اثر ہم پر بھی پڑتا ہے ۔


3 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved