• 24News pk

وزیر اعظم عمران خان کا سری لنکا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب


خطے کے عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے تجارتی تعلقات کا فروغ ناگزیر ہے، یورپی یونین کی طرز پر ہمیں خطے میں تجارتی تعلقات استوار کرنا ہوں گے، مسائل کا حل جنگ کی بجائے مذاکرات میں ہے، وزیراعظم عمران خان


اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطے کے عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے تجارتی تعلقات کا فروغ ناگزیر ہے، یورپی یونین کی طرز پر ہمیں خطے میں تجارتی تعلقات استوار کرنا ہوں گے، مسائل کا حل جنگ کی بجائے مذاکرات میں ہے، پاکستان چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی خلیج میں ماضی کی طرح ایک بار پھر کردار ادا کر سکتا ہے، سری لنکا کی بزنس کمیونٹی کو سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں، پاکستان میں مذہبی مقامات سمیت سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پہلی پاکستان۔ سری لنکا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پکسے بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ غربت کے خاتمے کا مقصد لے کر سیاست میں آئے، 25 سال پہلے انہوں نے اپنی جدوجہدکا آغاز کیا اور کینسر ہسپتال شروع کیا کیونکہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہونے کے باعث عام آدمی کی دسترس سے باہر تھا، فلاحی کام کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت غربت ، غذائی قلت اور افراط زر کا شکار ہے، پاکستان اور سری لنکا کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔


انہوں نے کہا کہ خطے میں عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے تجارتی تعلقات ناگزیر ہیں، یورپی یونین کی طرز پر ہمیں خطے میں تجارتی تعلقات استوار کرنا ہوں گے، جنگ کی بجائے مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازعہ موجود ہے جو صرف بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے، چین نے تنازعات کے باوجود تجارت کے فروغ سے کامیابی حاصل کی ہے، برصغیر میں بھی تنازعات کا بات چیت اور مذاکرات سے ہی حل نکالنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی خلیج میں کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان نے پہلے بھی چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا، ہم دوسری قوموں اور انسانیت کو قریب لانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، سری لنکا نے سیاحت کے شعبے میں بہت ترقی کی ہے، پاکستان سیاحت کے شعبے میں سری لنکا سے سیکھ سکتا ہے، پاکستان میں بہت سے مذہبی مقامات موجود ہیں اور یہ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کا مرکز رہا ہے، ہم نے پاکستان میں بدھوں کے مقدس اور سیاحتی مقامات کو ترقی دی ہے اور سہولیات میں اضافہ کیا ہے، پاکستان سیاحت کے حوالے سے خوبصورت ترین ملک ہے، دنیا کے خوبصورت ترین علاقے اور بلند پہاڑی سلسلے پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سری لنکا کے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ سی پیک میں سرمایہ کاری کریں، سری لنکا کو گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے ازبکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے سرمایہ کار سی پیک کے ساتھ خصو صی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کرکٹ کے شعبے میں سری لنکن ٹیم کی کامیابی پر خوشی ہے،


انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے صدر کے ساتھ گزشتہ روز مختلف امور پر گفتگو ہوئی، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے ان کے ساتھ سیر حاصل بات چیت ہوئی، میں نے چین کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ انہوں نے ہول سیل اور ریٹیل میں فرق کو ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کیا تاکہ عام آدمی کو سہولت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے ذریعے ہم غربت میں کمی لا سکتے ہیں، کاروبار کو آسان بنانا اور برآمدات بڑھانا ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے 35 سالوں میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، یہ بڑی کامیابی ہے، کاروباری سرگرمیوں کا مقصد دولت کی پیداوار اور غربت کا خاتمہ ہے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر کے ہم غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی استحکام اور ہمسایوں سے بہتر تعلقات بھی غربت میں کمی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، دہشت گردی سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے خطرہ ہے، میں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی میں کمی کی کوشش کی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بات چیت کی دعوت دی لیکن ہمیں کامیابی نہیں مل سکی۔


سری لنکا اور پاکستان کے درمیان مختلف کھیلوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو تمام اقتصادی اشاریئے خراب صورتحال کی عکاسی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ موجود ہے، اب ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ اس میں مزید کتنے شعبے شامل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی کا فروغ ہمارا ایجنڈا ہے۔انہوں نے سری لنکا کے کاروباری طبقے کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ خود آ کر دیکھیں کہ پاکستانی کتنے بہترین مہمان نواز ہیں۔ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سری لنکا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، ہم دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں، ہم سری لنکا کے ساتھ ایک نئے مستقبل کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں، پاکستان اور سری لنکا کے مابین تجارت کا حجم مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے سری لنکا کے وزیر تجارت سے مفید ملاقات ہوئی، افغانستان اور ازبکستان اور اس سے آگے وسط ایشیاء کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے پاکستان نئے راستے بنا رہا ہے، سری لنکا پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ سے بھی استفادہ کر سکتا ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تجارت کا یہ فروغ خظے کے ساتھ ساتھ سری لنکا کے لیے بھی سود مند ہو گا۔


انہوں نے سری لنکا کی کاروباری برادری سے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے استفادہ کریں، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ کورونا کی وباء کے باوجود پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، پاکستان اور سری لنکا کے اقتصادی تعلقات کو نئی جہتوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سری لنکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین قریبی تعلقات ایک عرصہ پر محیط ہیں، دونوں ملکوں نے بہت سے معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، دونوں ملکوں کے مابین تعلقات سے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے جائیں گے اور دوطرفہ تجارت اور تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔سری لنکا کے وزیر تجارت اجیت نیوات نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا نے کچھ ہی مہینوں کے فرق سے آزادی حاصل کی، وزیراعظم عمران خان کو ہم کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھ کر بھی بہت خوش ہوتے تھے اور آج انہیں اپنے درمیان پا کر بھی خوش ہیں، پاکستان اور سری لنکا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کرکٹ میں ان ملکوں کو پچھاڑا ہے جنہوں نے کرکٹ کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی تعاون کے فروغ سے خطے میں غربت کا خاتمہ ہو گا، پاکستان اور سری لنکا کو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے راستے تلاش کرنا ہوں گے اور دیکھنا ہو گا کہ ہم کس طرح ایک دوسرے سے بہتر طریقے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وباء سے دنیا کی معیشت کو بہت نقصان ہوا ہے لیکن ہمارے لیے اس میں بہت سے مواقع بھی موجود ہیں، تجارت کے علاوہ کھیلوں کے میدان میں بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صنعتوں کا شعبہ بہت فروغ پا رہا ہے اور انڈسٹریل زونز بنائے جا رہے ہیں۔ ہمیں بہتر شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

1 view0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved