• 24newspk

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا نیشل سینٹر آف آرٹیفشل انٹلیجنس نسٹ یورنیورسٹی کا دورہ


اسلام آباد19وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے احسن اقبال نے منگل کو وزارت کا حلف لینے کے فورا بعد نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دورہ کیا اور سینٹر میں پیش رفت کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پہ وزیر کا استقبال ریکٹر نسٹ انجینئر جاوید محمود بخاری، پرو ریکٹر ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن، ریٹائرڈ ائیر وائس مارشل ڈاکٹر رضوان ریاض اور چیئرمین ہائیر کمیشن ایچ ای سی ڈاکٹر طارق جاوید بنوری نے کیا۔


پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز، ڈائریکٹر، (این اے سی آہی) نے وزیر کو سینٹر کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ سینٹر طلباء کو آرٹیفیشل انٹیلیسی اور روبوٹکس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) جیسے مختلف شعبوں میں تکنیکی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں وزارت کا چارج سنبھالنے کے فوراً بعد ملک کی معروف یونیورسٹی NUST کے مرکز کا دورہ کرکے خوش محسوس کر رہا ہے ہوں، وزیر نے مزید کہا کہ AI مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہمارے نوجوانوں کو اس شعبے میں تیار کرنے کے لیے وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ 2018 میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں پانچ قومی مراکز قائم کیے گئے تھے۔


اس موقع پہ وفاقی وزیر نے جدید علم پر مبنی معیشتوں کے لیے مصنوعی ذہانت IA کی اہمیت پر مزید زور دیا۔ انہوں نے مرکز پر زور دیا کہ وہ اقتصادی ترقی سے متعلق شعبوں میں تحقیق شروع کرے۔ انہوں نے اکیڈمی اور انڈسٹری کے مضبوط روابط اور صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نصاب میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ( اے آئی)کے ذریعے ملک کے پولیسنگ، عدلیہ، صحت اور گورننس کے نظام جیسے کئی شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے، انہوں نے ایچ ای سی کو نصاب میں اصلاحات کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے صنعت کے رہنماؤں کی ورکشاپ منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔ بعد ازاں وزیر نے مرکز کی مختلف لیبارٹریوں کا دورہ کیا۔


انکا مزید کہنا تھا ۔انکی حکومت نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع سے منسلک کرنے کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔ قبل ازیں پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز نے اپنی بریفنگ میں وزیر کو بتایا کہ(این سی آے آہی )ایک کنسورشیم ماڈل پر کام کرتا ہے جس میں پاکستان بھر سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہترین محققین کو HEC اور پلاننگ کمیشن کی جانب سے مسابقتی بنیادوں پر منتخب کیا جاتا ہے.

انہوں نے وزیر کو مزید بتایا کہ کئی نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں بلوچستان، جی بی اور اے جے کے میں NCAI مرحلہ 2 PC-1، فیوچر ٹیکنالوجیز (FUTech) پارک، نیشنل اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (NA2I)، پاکستانیوں کے لیے AI سے چلنے والے جوڈیشل سپورٹ سسٹم شامل ہیں۔ عدلیہ، ٹیلی میٹری کے ساتھ صنعت اور پائیدار توانائی پر مبنی ذہین صحت کی دیکھ بھال کی نگرانی کے علاج کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے کثیر جہتی کراپ اسکاؤٹنگ۔

7 views0 comments