• 24News pk

وفاقی کابینہ کااجلاس

براڈ شیٹ معاملے پر انکوائری کمیشن تشکیل،کوروناویکسین کے لئے وزارت صحت کی سفارشات منظور،ضرورت پڑی تو سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے آئینی ترامیم کیں جائیں گی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت سینیٹر شبلی فراز کی میڈیا کو بریفنگ




وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی وسیپشل انیشیٹوکی جانب سے کابینہ کو جولائی تا دسمبر 2020ءمیں اقتصادی ومعاشی اعشاریوں میں نمایاں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔شرکاءکو بتایا گیا کہ پچھلے 6ماہ کے دوران ایکسپورٹ میں کئی سالوں کی نسبت اضافہ دیکھا گیا جبکہ ترسیلات زر میں 2.8ارب ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پچھلے سال کے مقابلے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 2بلین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔صرف دسمبر کے مہینے میں ٹیکس محصولات میں 7.9فیصد اضافہ دیکھا گیا۔پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت اخراجات پچھلے سال سے 7.4فیصد زیادہ رہے۔ پچھلے 8سالوں کے دوران پہلے 6ماہ میں پی ایس ڈی پی فنڈز کا استعمال سب سے زیادہ ریکارڈ کیاگیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محصولات اخراجات سے زیادہ رہے جبکہ زراعت کے شعبے میں چاول کی پیداوار میں 10فیصد اضافہ،گنے کی پیداوار 13فیصد اضافہ اور مکئی کی پیداوار میں 9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔منیوفکچرنگ کے شعبے میں خوش آئند اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سال لارج سکیل منیوفکچرنگ 7.4فیصد بڑھی، صرف دسمبر کے مہینے میں لارج سکیل منیوفکچرنگ میں 14.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا جو گذشتہ 12سالو ں میں سب سے زیادہ ہے۔افراط زر کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال افراط زر کی شرح اوسطاً11.1فیصد رہی جبکہ موجودہ سال کے چھ ماہ میں یہ شرح 8.6فیصد ہے۔صرف دسمبر کے مہینے میں افراط زر کی شرح 6.4فیصد رہی۔آئندہ مہینوں میں افرط زر کی شرح میں مزید کمی متوقع ہے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے جبکہ اپریل 2018کے بعد سٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کئی اہم موضوعات زیر بحث لائے گئے ۔ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری کی جانب سے وفاقی کابینہ کو حکومت کی ٹاسک فورس برائے کفایت شعاری وتنظیم نوکی جانب سے وزارتوں اور ڈویزنز میں 70ہزارخالی آسامیاں ختم کرنے، وفاقی حکومت کے اداروں کی تعداد 441سے کم کرکے324تک رکھنے کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ پچھلے دو سالوں میں وزارتوں اور اداروں کے اخراجات نہیں بڑھائے گئے۔کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ 7اداروں کی ری سٹرکچرنگ کے حوالے سے اصلاحات پر مبنی سفارشات متعلقہ وزارتوں کوعمل درآمد کے لیے دے دی گئی ہیں۔ان اصلاحات پر عمل درآمد پر پیش رفت کامسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔کابینہ کو وزارتوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری اور ای فائلنگ کے حوالے سے اہداف کی تکمیل میں پیشرفت، اخراجات میں کمی، مونیٹائزیشن کے حوالے سے اصلاحات اور ڈویزنزکوپی ایس ڈی پی سکیمز کی مد میں فنڈز کی ریلیز کی حد میں اضافے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان اصلاحات پر عمل درآمد اور متوقع اثرات کے حوالے سے مجوزہ روڈ میپ پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔


کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 20جنوری 2021ءکو منعقد ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی چند ہدایات کی روشنی میں توثیق کی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی اداروں کے 20جنوری 2021 کو منعقد ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی۔وفاقی کابینہ نے سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ نے آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکے انتخابات کے حوالے سے نامزدگیوں کی منظوری دی۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ براڈ شیٹ ایک ایسی خبر ہے جس نے ہماری پارٹی کے موقف پر مہر ثبت کی ‘ ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ اس ملک میں این آر اوز کلچر ملک کو پیچھے لے گئے ہیں ‘ جب بھی برسراقتدار پارٹی کے اہم لوگوں پر کرپشن کے سنگین الزامات لگے تو مصلحت کے تحت ان کو راستہ دیا گیا جس کی وجہ سے کرپشن کرنے والوں نے اپنی سیاست کو استعمال کرتے ہوئے سودا بازی کی ‘ جب بھی این آر او ہوتا ہے ملک کا اخلاقی حیثیت پر سمجھوتہ ہوتا چلا جاتا ہے ‘ وزیراعظم عمران خان نے اس کلچر کو چیلنج کیا ۔

کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹررسک مینجمنٹ فنڈ کو وزارت برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات اور سپیشل انیشیٹوکے زیر انتظام لانے اور ادارے کے مستقبل کے تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے تشکیل شدہ کابینہ کی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان کی International Network on Bamboo and Rattan (INBAR)ممبر شپ کے حوالے سے الحاق کے دستاویزکی منظوری دی۔کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈیلی ویجرز اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے نیشنل انسٹیٹوشنل فسلیٹیشن ٹیکنالوجیزکے زیر انتظام تمام درجوں کی ملازمت پر پاکستان اسینشل سروسز(مینٹیننس)ایکٹ1952کے اطلاق میں 6ماہ تک توسیع کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن اور سکیورٹی پیپرز لمیٹڈ کراچی کے ملازمین پر پاکستان اسینشل سروسز(مینٹیننس)ایکٹ1952کے اطلاق میں 6ماہ تک توسیع کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے نادراکے مالی سال 2019-20 کے اکاونٹس کے آڈٹ کے لیے چارٹرڈ اکاونٹنٹ فرم کے تقرر کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے کورونا ویکسین کی درآمد کے حوالے سے وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز،ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کی جانب سے سفارشات کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے ورکرز ویلفیئر فنڈہاوسنگ الاٹمنٹ پالیسی 2020کے مسودے اوراس پالیسی کے تحت ورکرز ویلفیئرفنڈ اور نیا پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 7جنوری 2021اور 14جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے 18جنوری 2021ءاور 21جنوری 2021 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔


انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ سے ثابت ہو ا کہ کس طرح سیاسی مصلحت کے تحت نہ صرف ان کو چھوڑ گیا بلکہ ان میں شامل لوگ صدر ‘وزیراعظم اور وزراءبنے ۔ انہوں نے کہا کہ جب معاہدہ حکومت پاکستان نے کیا ہو تو اسکی لاج رکھنی پڑتی ہے ‘ موجودہ حکومت اگر براڈ شیٹ معاملے میں ادائیگی نہ کرتی تو جہاز کی طرح ہمارے بیرونی اکائونٹس ضبط ہونے کا خدشہ تھا ۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ہماری پارٹی چاہتی ہے کہ سینٹ کے الیکشن شفاف طریقے سے ہوں ‘تاریخ گواہ ہے سینٹ کے الیکشن میں ووٹ خریدے اور بیچے جاتے رہے ‘ایسے پارلیمان کا کیا فائدہ جس میں پیسے کے بل بوتے پر سب سے بڑے ادارہ میں آئیں ‘ اس مقصد کے حصول کے لئے اوپن بیلٹ کی بات کی گئی ‘ اگر ضرورت پڑی تو سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لئے آئینی ترامیم بھی کی جائیں گی ‘ وہ لوگ جو سینٹ کے اندر یا باہرسینٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ تو میثاق جمہوریت میں مطالبہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سکوک بانڈز پہلی دفعہ نہیں جاری ہوا‘ 2008سے یہ سلسلہ چل رہا ہے ‘اسلامک فنانسنگ میں ایک شرط ہوتی ہے کہ اس میں ایک اثاثہ چاہیے ہوتا ہے‘ حکومت اپنی گارنٹی بھی دے سکتی ہے ‘ماضی میں موٹر وے‘ ائیر پوٹ بھی سکوک بانڈ کے لئے رکھے گئے تھے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران بیرونی قرضوں میں 11ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا ہے جس میں 6ٹریلین روپے‘پچھلے قرضوں پر سود کی ادائیگی ‘ساڑھے تین ٹریلین روپے پیسے کی قدر کم ہونے سے جبکہ 1.2ٹریلین روپے کوویڈ پیکیج کی مد میں تھے ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی چیخوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ ایک دیانتدار شخص سے ڈر رہی ہے ‘ عظمت سعید شیخ کا نیب سے سپریم کورٹ تک وسیع تجربہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک عظمت سعید شیخ کا انکار موصول نہیں ہوا ‘ امید ہے کہ وہ ہی کمیشن کی سربراہی کریں کے ۔


0 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved