• 24newspk

ٹیم مینجمنٹ میں ہوتا تو شاہین آفریدی کو انجکشن لگا کر اس کا گھٹنہ سن کردیتا، شعیب اختر کا مشورہ


اسلام آباد(24 نیوز پی کے)پاکستان کی ٹی 20ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست ہوئی جس پر بہت سی باتیں ہوئیں اور ٹیم کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ۔فائنل میں پاکستان 138 رنز کا دفاع کیا اور میچ آخری اوور تک لے گئے۔شائقین کرکٹ کہتے ہیں کہ شاہین شاہ آفریدی انجرڈ نہ ہوتا تو پاکستان میچ جیت سکتا تھا اس وقت بابر اعظم نے اچھا فیصلہ کیا کہ شاہین شاہ کو باہر بھیج دیا ۔ شائقین کرکٹ اس فیصلے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ نوجوان کرکٹر کا کیریئر زیادہ اہم ہے ورلڈ کپ پھر آجائے گا۔


پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے شاہین شاہ آفریدی کے ان فٹ ہونے کے معاملے پر کہا کہ اگر وہ ٹیم مینجمنٹ میں ہوتے تو شاہین آفریدی کو انجکشن لگا کر اس کا گھٹنہ سن کردیتا۔ انسٹا گرام پر اپنے ویڈیو پیغام میں شعیب اختر نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کا ان فٹ ہونا ہمارا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔شعیب اختر نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اگر ٹیم مینجمنٹ میں ہوتا تو شاہین آفریدی کو انجکشن لگا کر ان کا گھٹنہ سن کردیتا، پھر اسے کہتا کہ اوور سے پہلے ایک دو بال سائیڈ پر کرواکر دیکھیں کیسا محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں درد ہوتا تو چھوڑ دیتا اور کبھی ان سے باؤلنگ نہیں کرواتا، کیونکہ کسی کا کیریئر داؤ پر نہیں لگانا، خیر ہے ورلڈکپ آتے جاتے رہیں گے۔


Islamabad (24Newspk) Pakistan was defeated by England in the T20 World Cup final, which was talked about a lot and encouraged the team. In the final, Pakistan defended 138 runs and took the match to the last over. Cricket fans say that if Shaheen Shah Afridi had not been injured, Pakistan could have won the match, then Babar Azam made a good decision to send Shaheen Shah out. Cricket fans consider this decision as a good decision that the career of the young cricketer is more important. The World Cup will come again.


Pakistan's former Test cricketer Shoaib Akhtar said on the issue of Shaheen Shah Afridi's unfitness that if he was in the team management, he would have given Shaheen Afridi an injection and made him feel his throat. In his video message on Instagram, Shoaib Akhtar said that Shaheen Shah Afridi's unfitness was our turning point. , would then tell him to bowl a couple of balls on the side before the over and see how he felt. He said that if he was in pain, he would quit and would never bowl to him, because no one's career was at stake, well. The World Cup will come and go.

24 views0 comments