• 24News pk

پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے


راولپنڈی۔ 6 ستمبر(اے پی پی) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا، ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پہ کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے، افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں اور انشاءاللہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں، پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں، افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ وہ اتوار کو یوم شہداء کے موقع پر جی ایچ کیو میں ایورڈ تقیسم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ءکا دِن ہماری تاریخ کا ایک لازوال باب ہے۔ یہ وہ دن ہے جب قوم کی یکجہتی، وطن سے محبت، قربانی اور بہادری کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔ پاکستانی قوم کے لیے چھ ستمبر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہمارے حوصلے کی پہچان بھی ہے۔ یہ دِن1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے د±شمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کر رہے ہیں۔ اسی لیے آج ہم اپنے شہداءاور غازیو ں کے عظیم کارناموں کو یاد کرنے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ ان کی جرات، بہادری اور قربانیوں کی بدولت ہماری آزادی، خود مختاری، امن و سلامتی قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے سامنے شہدا ءکے اہلِ خانہ موجود ہیں۔ میں ا±نھیں سلام پیش کر تا ہوں، میں انھیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے پیاروں کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے، ہمارے شہید ہمارے ہیرو ہیں اور جو قومیں اپنے ہیرو کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مِٹ جایا کرتی ہیں، میں آپ کے جذبہ ءایثار کو سلام پیش کر تا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر قدم پے آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم آپ کے صبر اور قربانی کی مقروض ہے۔ جس طرح شہداء پوری قوم کا فخر ہیں، اسی طرح آپ بھی ہمارا فخر ہیں۔ میں آج کی تقریب میں اعزازات حاصل کر نے والے آفیسرز، جونئیر کمیشنڈ آفیسرز اور جوانوں کو مبارکباد پیش کر تا ہوں۔ آپ نے فرض کی ادائیگی کے دوران پاکستان فوج کی اعلیٰ روایت کو مقدم رکھتے ہوئے جس پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت دیا ہے، ہم سب کو آپ پر ناز ہے۔ آپ کے سینوں پر سجائے جانے والے میڈل، نہ صرف آپ بلکہ ہم سب کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت ِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے۔ اسی بنیاد پے ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے۔ ہمارے دشمن اس شناخت کو مٹانے کے لیے لگاتا ر سازشوں کا جا ل بنتے آئے ہیں لیکن الحمدللہ افواجِ پاکستان اور قوم نے جذبہءایمانی سے سر شار ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بنایا۔ وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے۔ اس مشعل کو ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے جلائے رکھا ہے اور ہم بھی اسے روشن رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ پاک فوج کے بہادر سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ہمارا ہر آفیسر اور جوان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلی نظم و ضبط اور ایثار کی بدولت ایک ایسی فوج کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ سرحدوں کے محاذ ہوں یا دہشت گردی، قدرتی آفات کا سامنا ہو یا تعمیرِوطن کے فرائض، پاک افواج اپنی قوم کی حفاظت اورخدمت کو ایک انتہائی مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہیں۔ پاکستانی قوم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی دشمن ہماری اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا۔ اسی طرح پاکستانی قوم کی پاکستان افواج سے محبت لازوال ہے۔ ان کا اعتماد غیرمتزلزل ہے۔ میں ان تمام جذبوں کو سلام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے۔ ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔حال ہی میں کورونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہاجس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔جس کی دنیا معترف ہے۔ ہم پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بانی ِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا۔میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت ہمیں کئی بار آزما چکا۔ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا۔



Drop Me a Line, Let Me Know What You Think

© 2020 by 24newspk.com all rights reserved