• 24News pk

پاکستان ریاست مدینہ کے راستے پر چل کر عظیم ملک بنے گا، وزیراعظم عمران خان


اسلام آباد۔1فروری (24 نیوز پی کے-اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست جدید فلاحی ریاست تھی، وہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا، پاکستان ریاست مدینہ کے راستے پر چل کر عظیم ملک بنے گا، قانون کی حکمرانی اور بالادستی سے کوئی بھی قوم ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوتی ہے، ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے میں نے مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے مل کر آواز بلند کی، تمام مسلمان ملکوں کو اس مسئلہ پر اکٹھا کر رہا ہوں، جن قوموں میں طاقتور کو این آر او مل جاتا ہے وہ تباہ ہو جاتی ہیں، چور ڈاکو مل کر این آر او کیلئے دبائو ڈال رہے ہیں، مشرف دور میں زرداری اور نواز شریف کو ملنے والے این آر او کے نتائج ہم بھگت رہے ہیں، پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کے پاس 40 ہزار ڈونرز کے نام، پتے اور فون نمبر موجود ہیں، اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ یہ اپنے 100 ڈونرز کے نام بتا دیں، الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے اور اپوزیشن کے فنڈنگ ذرائع کا بھی جائزہ لے، نواز شریف نے بے نظیر حکومت گرانے کیلئے اسامہ بن لادن سے پیسے لئے، کیا فضل الرحمن لیبیا سے پیسے نہیں لیتا رہا؟ براڈ شیٹ سے اپوزیشن کی حقیقت بے نقاب ہو گئی، سینٹ الیکشن میں اوپن بیلٹنگ کیلئے آئینی ترمیم لا رہے ہیں، قبضہ گروپوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے، بڑے بڑے محل گرائیں گے اور سرکاری زمینیں واگزار کرائیں گے، معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، مہنگائی کم ہو جائے گی، ایک دم سے سب کچھ ٹھیک ہونا ممکن نہیں، صبر سے کام لینا ہو گا، یونیورسل ہیلتھ کوریج، احساس پروگرام اور ہائوسنگ کیلئے قرضے موجودہ حکومت کے تاریخی اور بے مثال پروگرام ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ”آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ“ کے عنوان سے عوام کی براہ راست کالز کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ ساہیوال سے ایک شہری نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ کورونا کی ویکسین عام آدمی تک کیسے پہنچے گی اور کیا محض بڑے لوگ ہی تو اس مستفید نہیں ہوں گے؟ کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی ویکسین آج پاکستان پہنچی ہے، سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکرز، ڈاکٹرز، نرسز کو یہ ویکسین فراہم کی جائے گی جو ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں اور مریضوں کے سب سے قریب ہوتے ہیں، اس کے بعد 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد یا سنگین امراض میں مبتلا مریضوں کو یہ ویکسین لگائی جائے گی، امیر غریب کا کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ ایک سال کے اندر زیادہ تر لوگوں کو یہ ویکسین مہیا ہو جائے۔


اسلام آباد سے ایک شہری نے وزیراعظم سے ان کے ریاست مدینہ کے تصور کے حوالہ سے سوال کیا جس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں خواہ کرکٹ کا شعبہ ہو یا شوکت خانم یا نمل یونیورسٹی کا قیام یا پھر سیاست میں دو جماعتی نظام کا خاتمہ بڑے بڑے اہداف سامنے رکھے ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں کامیابی دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کسی ملک میں تیسری جماعت دو جماعتی نظام کے اندر اقتدار میں نہیں آئی، میں نے جو بھی کام کیا تو مجھے یہی کہا گیا کہ اس میں کامیابی مشکل ہے لیکن میں نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کبھی بھی اپنے خواب نہ چھوڑیں اور جس راستے پر بھی گامزن ہوں تو کشتیاں جلا کر کامیابی کیلئے جدوجہد کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے تصور کے حوالہ سے ساتویں جماعت سے سیرت النبی کا مضمون نصاب میں شامل کیا جائے گا، مدینہ کی ریاست ایک انتہائی جدید ریاست تھی جس میں پہلی دفعہ نئے تصورات متعارف کرائے، قانون کی حکمرانی اور بالادستی کا تصور دیا، حضور نبی کریم نے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ بھی اگر جرم کرے گی تو سزا ملے گی، اس معاشرہ میں انسانی حقوق اور میرٹ کا دور دورہ تھا، نبی کریم کا آخری خطبہ حجة الوداع انسانیت کا چارٹر تھا، جو بھی قوم ان اصولوں کو اپنا لیتی ہے وہ ترقی کے زینے طے کرتی ہے اور جو ان اصولوں کو چھوڑ دیتی ہے تو وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے، مدینہ کی ریاست قائم کرنا ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، کوئی سوئچ آن آف کرنے سے یہ ریاست وجود میں نہیں آ جاتی اس کیلئے طویل جدوجہد کرنا ہوتی ہے، مجھے یقین ہے کہ پاکستان اس راستے پر چل کر ایک عظیم قوت بنے گا۔ گلگت بلتستان کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے، سوئٹزرلینڈ سیاحت سے 80 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ ہماری کل برآمدات اس سے کہیں کم ہیں، گلگت بلتستان سوئٹرزلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے، سیاحت پر توجہ دے کر ہم ایسی خوشحالی لا سکتے ہیں جس کا کبھی سوچا بھی نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنائیں گے، ہائیڈرو الیکٹریسٹی کے منصوبے لائیں گے اور گرڈ سٹیشن بنایا جائے گا۔ تربت، بلوچستان سے ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی آبادیاں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، رقبہ زیادہ اور آبادی کم ہے، گنجان علاقوں میں سہولتیں فراہم کرنا آسان ہوتا ہے، ماضی کی حکومتوں نے پیسے کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا، ہم ایک اچھا بلدیاتی نظام لائیں گے تاکہ پیسہ گائوں دیہات کی سطح تک لگ سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان ترقی میں پیچھے رہ گیا ہے، ہم نے تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج دیا، انٹرنیٹ اور کنکٹیویٹی کی سہولیات فراہم کریں گے، سکیورٹی مسائل کی وجہ سے یہ فراہم کرنے میں مشکلات تھیں کیونکہ دہشت گرد بھی ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں، دور دراز علاقوں کے عوام کو تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا لیکن انہیں کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے، جیسے جیسے وسائل دستیاب ہوں گے ہم عوام کو سہولیات فراہم کریں گے، بلوچستان میں معدنیات کا پیسہ مقامی سطح پر خرچ کیا جائے گا۔ گھروں کی تعمیر کیلئے قرضوں کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبہ لے کر آئی ہے، یہ ایک نیا تصور ہے، امیر سے امیر حکومتیں بھی لوگوں کو گھر بنا کر نہیں دے سکتیں، ہم ایسا نظام لائے ہیں جس کے ذریعے بینکوں سے گھروں کی تعمیر کیلئے قرضے ملیں گے، امریکہ اور برطانیہ میں 80 فیصد لوگ مارگیج سسٹم کے تحت گھر لیتے ہیں، ملائیشیا میں 30 فیصد اور بھارت میں 10 فیصد لوگ اسی طرح اپنے گھر بناتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ شرح صرف 0.2 فیصد ہے کیونکہ بینک گھر بنانے کیلئے قرضہ نہیں دیتے اس سلسلہ میں ہم نے قانونی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے، اب لوگوں کو گھروں کی تعمیر کیلئے قرضے ملیں گے اور عام اور تنخواہ دار مزدور طبقہ بھی گھر تعمیر کر سکے گا، حکومت اس سلسلہ میں مراعات اور سبسڈیز فراہم کر رہی ہے، اب لوگ اپنے گھروں کا کرایہ دینے کی بجائے قرضوں کی قسطیں دے کر گھروں کے مالک بن جائیں گے۔ راولپنڈی سے ایک شہری کی ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے حکومتی حکمت عملی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 1989ءمیں سلمان رشدی نے کتاب لکھ کر شان رسالت میں گستاخی کی، تب سے مغرب میں یہ معاملہ شروع ہوا، مغرب نے اس مسئلہ کو نہیں سمجھا، انہوں نے اسے آزادی اظہار رائے کا معاملہ سمجھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اپنے نبی کریم سے ہر چیز سے بڑھ کر عشق کرتے ہیں اور ناموس رسالت ان کیلئے ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر اٹھایا اور مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے مل کر اس سلسلہ میں کوششیں کیں، مغرب میں جان بوجھ کر بھی یہ فتنہ کھڑا کیا جاتا ہے، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملہ پر میں نے اور طیب اردوان نے آواز بلند کی، جب تک مسلمان رہنما مل کر آواز بلند نہیں کریں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، میں نے تمام سربراہان مملکت کو خط لکھے کہ وہ مغرب کو بتائیں کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ کئے جائیں، ہم یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ایک شہری نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ وہ اپوزیشن کو این آر او کیوں نہیں دے دیتے تاکہ ان کے ڈراموں سے جان چھوٹ جائے جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ان سب کو جیلوں سے کیوں رہا نہ کر دیا جائے جو چھوٹے جرائم میں جیلوں میں بند ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ قانون کی حکمرانی اور بالادستی کو تسلیم نہ کرے، قانون کی بالادستی سے ہی معاشرے میں خوشحالی آتی ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام رائج ہو وہاں ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی، ہمیں نبی کریم سے بھی یہی تعلیم ملی ہے کہ جن معاشروں میں طاقتور کو این آر او مل جاتا ہے وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے قومیں غریب نہیں ہوتیں بلکہ قانون کی بالادستی اور اس کے بلاتفریق نفاذ سے کوئی قوم آگے بڑھتی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی خسارہ ورثہ میں ملا جس کی وجہ سے ہماری حکومت آتے ہی روپے پر بہت دبائو بڑھ گیا، سابق حکومت نے مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو مستحکم رکھا ہوا تھا لیکن روپے نے گرنا ہی تھا اور وہ گرا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا تاہم پیپلز پارٹی کے 2008 اور 2009ءکے مقابلہ میں مہنگائی کم ہے، ہمارے دور میں روپیہ 24.1 فیصد گرا جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو روپیہ 25.5 فیصد گرا تھا جبکہ اس کے مقابلہ میں مہنگائی 17 فیصد تھی لیکن ہمارے دور میں مہنگائی 7.03 فیصد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ روپے کی قدر گرنے سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں کیونکہ ہم پٹرولیم مصنوعات باہر سے منگواتے ہیں، پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، بجلی سمیت ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے کیونکہ بجلی کے معاہدے بھی سابق حکومتوں نے ڈالرز میں کئے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گھی، چائے، دالیں، گیس سمیت بیشتر چیزیں ہم باہر کے ملکوں سے منگواتے ہیں جن کی ادائیگیاں ڈالر میں ہوتی ہیں جس سے روپے کی قدر گرتی ہے اور مہنگائی ہو جاتی ہے اس لئے ہم برآمدات اور ترسیلا زر بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب صحیح راستے پر گامزن ہو گیا ہے، ڈالر زیادہ آنے سے روپے کی قدر مستحکم ہو گی اور مہنگائی میں کمی آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 2 سال گندم کی پیداوار بھی کم ہوئی اور وہ بھی ہمیں باہر سے منگوانا پڑی، مجھے احساس ہے کہ عوام مشکلات کا شکار ہیں لیکن جب ہم آئے تو اس کے مقابلہ میں حالات اب بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ناموس رسالت سے متعلق ایک اور فون کال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب تک مسلم دنیا مغرب پر دبائو نہیں ڈالے گی یہ معاملہ حل نہیں ہو گا کیونکہ مغرب آزادی اظہار رائے کے پیچھے پناہ لیتا ہے لیکن اب انہیں یہ احساس ہو رہا ہے اور میں نے بڑی شدت کے ساتھ یہ معاملہ دنیا میں اٹھایا ہے، ہمارے لوگوں کو مغرب میں اسلامو فوبیا کی وجہ سے بڑے مسائل کا سامنا ہے، میں تمام مسلم ممالک کو اس معاملہ پر اکٹھا کر رہا ہوں، ترک صدر رجب طیب اردوان نے میرے ساتھ مل کر سٹینڈ لیا ہے اور فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہم نے بھرپور آواز بلند کی ہے، جب مغرب کو یہ احساس ہو گا کہ اس کا بھرپور ردعمل آئے تو یہ سلسلہ بند ہو گا

انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے ملک کا پیسہ لوٹا اور باہر لے گئے، منی لانڈرنگ سے ملک کا پیسہ باہر جانے سے دوگنا نقصان ہوتا ہے کیونکہ حوالہ ہنڈی سے ڈالر باہر جانے سے روپے کی قدر گر جاتی ہے اور مہنگائی آتی ہے، غریب ملکوں میں غربت کی وجہ حکمرانوں کا ملکی دولت لوٹ کر پیسہ باہر لے جانا ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کی مثال دی جہاں مہاتیر محمد کی جگہ ایک ایسا حکمران آ گیا جیسے پاکستان میں تھے لیکن آج وہ جیل میں ہے کیونکہ اس نے ملک کا پیسہ لوٹا۔ وزیراعظم نے کہا کہ طاقتور کا احتساب زیادہ ضروری ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو پٹواری یا تھانیدار نہیں بلکہ وزیراعظم اور وزراءاپنی لوٹ مار سے تباہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سارے چور ڈاکو اکٹھے ہو کر این آر او کیلئے دبائو ڈال رہے ہیں، اگر میں نے انہیں این آر او دیا تو یہ ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہو گی، مشرف دور میں ان کو جو این آر او ملا اس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں، گذشتہ 10 سالوں میں قرضے چار گنا بڑھ گئے اور اب ہمارا سارا پیسہ ان قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جو سابق حکمرانوں نے لئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دو بڑی پارٹیوں کے لیڈر جن کی کرپشن ثابت ہو گئی تھی ان دونوں کو این آر او دے دیا گیا، براڈ شیٹ سے ساری صورتحال قوم کے سامنے آ گئی ہے، سرے محل اور حدیبیہ پیپرمل کے جرائم ثابت ہو گئے تھے لیکن این آر او کی وجہ سے انہوں نے اپنی ساری دولت بچا لی۔ وہاڑی سے ایک شہری کے مہنگائی کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کیلئے مہنگائی بہت زیادہ تکلیف دہ ہے لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مہنگائی کیوں ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ روپے کی قدر گرنا ہے اور روپیہ اس لئے گرتا ہے کیونکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان کی دولت چوری ہو کر ڈالر کی صورت میں باہر جاتی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان سے ہر سال 10 ارب ڈالر چوری ہو کر باہر جاتے ہیں، پاکستان کی برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہیں جس کی وجہ سے روپے کی قدر گرتی ہے۔


کینیڈا سے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے، کے مصداق اپوزیشن نے فارن فنڈنگ کیس میں خود کو عذاب میں ڈال لیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 31 سال پہلے فنڈ ریزنگ شروع کی، شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کیلئے میں ایک عرصہ سے پیسے جمع کر رہا ہوں، ہماری جماعت واحد جماعت ہے جس نے پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کی ہے، بیرون ملک پاکستانیوں کا ہمیں فنڈ دینے میں بڑا حصہ ہے، انہوں نے مجھے سب سے زیادہ فنڈز دیئے ہیں اور سپورٹ کیا ہے کیونکہ کرکٹ کے حوالہ سے دنیا بھر میں لوگ مجھے جانتے تھے، پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کے پاس 40 ہزار ڈونرز کے نام پتے اور فون نمبر موجود ہیں، میں اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے سو ڈونرز کا نام فراہم کر دے اور بتا دے کہ اس نے کیسے فنڈ ریزنگ کی ہے اور ان کو کہاں سے پیسے ملتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں قبضہ گروپوں سے پیسے لیتی تھیں، (ن) لیگ کے قبضہ گروپ تھے جن کو یہ پالتے تھے اور تحفظ فراہم کرتے تھے اور بدلے میں وہ ان کے خرچ پورے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے اور اپوزیشن جماعتوں کے فنڈنگ کے ذرائع دیکھے، تحقیقات کی جائیں کہ ان کو غیر ملکیوں نے پیسے دیئے کہ نہیں۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا فضل الرحمن کہہ سکتا ہے کہ اس نے بیرون ملک اور لیبیا سے پیسے نہیں لئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بے نظیر حکومت گرانے کیلئے اسامہ بن لادن سے پیسے نہیں لئے؟ بے نظیر بھٹو نے خود یہ بات کہی اور اس کے ثبوت موجود ہیں اور کتابوں میں بھی اس کا ذکر ہے، اب اپوزیشن خود پھنس گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایک دم سے سب کچھ ٹھیک کرنا ممکن نہیں، کچھ چیزیں 50 سال میں، کچھ 30 اور کچھ گذشتہ 10 سالوں میں تباہ ہوئی ہیں، گذشتہ 10 سالوں میں تو بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے، سٹیل ملز، پی آئی اے اور پاور سیکٹر کو تباہ کیا گیا، ان سب کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور اس کیلئے ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ چار بڑے ہسپتالوں میں سے 2 ہسپتال شوکت خانم کے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے کیونکہ ہمیں نظام کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے اس راہ میں کئی رکاوٹیں ہوتی ہیں، برسوں کے بگڑے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، پنجاب پولیس ایک دو سالوں میں خراب نہیں ہوئی، 1993ءمیں آئی جی پنجاب پولیس عباس خان کی رپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ 25 ہزار لوگ بغیر میرٹ کے بھرتی کئے گئے، رشوت لے کر لوگوں کو ملازمت دی گئی، کئی مجرموں کو پولیس میں بھرتی کیا گیا، ایک دم سے یہ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا، تمام اداروں کو باری باری درست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں علاقائی کرکٹ شروع ہو گئی ہے، کرکٹ اسی طرح ٹھیک ہو گی، علاقائی کرکٹ کے فروغ سے کھلاڑیوں کو ڈویلپ ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ ایک شہری نے وزیرعظم سے ان کی صحت اور چاق و چوبند ہونے سے متعلق سوال کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد انہیں کئی کئی گھنٹے کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے جس سے ان کا وزن بڑھ گیا ہے تاہم وزیراعظم نے کہا کہ مناسب غذا اور ورزش کے ذریعے صحت مند رہا جا سکتا ہے۔ ایبٹ آباد سے ایک شہری نے وزیراعظم کو زیتون کی کاشت کی تجویز دی جس کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ بہت اچھی تجویز ہے، زیتون کا تیل مقامی سطح پر تیار کرنے سے پاکستان اربوں ڈالر کما سکتا ہے اور پاکستان میں انقلاب آ سکتا ہے اور ہم زیتون کا انقلاب لے کر آ رہے ہیں، میں نے سٹڈیز کرائی ہیں دریائے سندھ کے دائیں طرف کا علاقہ زیتون کیلئے بہترین ہیں، اگلے ماہ ہم اس سلسلہ میں پروگرام کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ طویل المدت منصوبہ بندی نہیں ہوتی اور صرف پانچ سال کا سوچا جاتا ہے، ہم نے پہلی بار آئندہ نسلوں کے بارے میں سوچ کر منصوبہ بندی کی ہے۔ سینٹ الیکشن سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 30 سالوں سے جو ہو رہا ہے وہ شرمناک ہے، کئی سینیٹرز پیسہ اور رشوت دے کر اور ضمیر خرید کر سینیٹر بنتے ہیں اور ارکان صوبائی اسمبلی ووٹ بیچتے ہیں، ہماری اپنی جماعت کے بعض ارکان نے پیسے لے کر ووٹ دیئے جس پر ہم نے ان کو پارٹی سے نکالا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کی بنیاد ہی یہاں سے پڑتی ہے جو پیسے دے کر سینیٹرز بنتے ہیں وہ ملک کی خدمت کرنے کی بجائے پیسہ ہی بناتے ہیں، 30 سالوں سے یہ سب کچھ ہو رہا تھا کسی نے اس پر نہیں سوچا، (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی اوپن بیلٹنگ پر آپس میں اتفاق کیا تھا، ہم اس کیلئے آئینی ترمیم لے کر آ رہے ہیں، قوم کو پتہ چل جائے گا کہ کون اس ترمیم کی حمایت کے ذریعے کرپشن کا نظام ختم کرنا چاہتا ہے اور کون کرپشن کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ برطانیہ سے ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی جس نے سعودیہ، ایمریٹس، سنگاپور ایئر لائنز سمیت کئی ایئر لائنوں کی بنیاد رکھی، پھر یہ خود زوال کا شکار ہو گئی، پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں جس کی وجہ سے تنخواہیں دینے کے بعد پیسہ نہیں بچتا، کرپشن بہت ہے، سارے ادارے کرپشن سے تباہ ہوئے، پی آئی اے پر 400 ارب روپے کا قرضہ ہے جس پر سود دینا پڑتا ہے، پیکیج لانے پڑتے ہیں، ہمارے پی آئی اے کے پاس پیسے نہیں کہ نئے جہاز خرید سکیں جن کو چلانے کی لاگت کم ہے، کورونا کے بعد ساری دنیا کی ایئرلائنز مشکل میں ہیں، پی آئی اے میں سیاسی مداخلت ختم کر دی گئی ہے اور اسے بہترین ایئر لائن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ملازمین بہت زیادہ ہیں، ہم اس ادارے کو ری سٹرکچر کر رہے ہیں اور قرضے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں، سٹیل ملز پر 300 ارب روپے کا قرضہ ہے، پاور سیکٹر میں بھی بے تحاشا قرضوں کی وجہ سے مشکلات ہیں۔ ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی۔ کورونا کے باعث چھوٹے سکولوں کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈائون سے پوری دنیا میں مشکلات ہوئی ہیں، پاکستان میں سروس سیکٹر اور چھوٹے تعلیمی اداروں کو بہت نقصان ہوا ہے، حکومت اس سلسلہ میں سوچ و بچار کر رہی ہے اور وزیر تعلیم نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ مسلسل اجلاس کئے ہیں، پنجاب حکومت کو اس سلسلہ میں ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ کاروبار کیلئے بینک سے قرضہ نہ ملنے کی شکایت پر وزیراعظم نے کہا کہ بینک سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ میرٹ پر قرضہ دیتے ہیں، حکومت کوئی سیاسی مداخلت نہیں کر رہی، احساس پروگرام کے تحت غیر سیاسی بنیادوں پر 180 ارب روپے کی نقد امداد فراہم کی گئی ہے، قرضے دینے کے معاملہ پر حکومت کی کوئی مداخلت نہیں، بینک خود درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں، تعمیرات کا شعبہ ترجیح ہے۔ سیاحت اور سروس کے شعبوں میں کورونا کی وجہ سے مشکلات ہیں، حکومت اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت پر فخر ہے جس نے اپنے صوبے کے تمام خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی ہے جس کے ذریعے کسی بیماری کی صورت میں ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کے علاج معالجہ کی سہولت میسر ہو گئی ہے، امیر ترین ملکوں میں بھی یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں ہے، پنجاب میں بھی اس سال کے آخر تک تمام خاندانوں کو یہ سہولت میسر ہو گی۔ براڈ شیٹ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مشرف دور میں ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ بیرون ملک جائیدادوں اور دولت کا سراغ لگایا جا سکے، اس کمپنی نے پتہ چلایا کہ نواز شریف کی 100 ملین ڈالر کے فلیٹس اور جائیدادیں ہیں لیکن مشرف نے ان کو این آر او دے کر سعودیہ بھجوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کہہ رہی ہے کہ ہم نے اپنا کنٹریکٹ پورا کیا اس لئے اسے ادائیگی کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جسٹس (ر) عظمت سعید کو اس لئے لیا ہے کہ ان کی احتساب اور کرپشن کے کیسوں پر کافی دسترس ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آصف علی زرداری کو سرے محل کیس میں این آر او دیا گیا اور وہ پیسے انہیں دے دیئے گئے جو پاکستان کو حاصل ہونے تھے۔ حیدرآباد کی ترقی کیلئے اقدامات کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، وفاق پیسہ بھی صوبوں کو دے دیتا ہے، جب تک صوبائی حکومتیں نہ کہیں وفاق مداخلت نہیں کر سکتا۔ ایل او سی پر بھارتی گولہ باری کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ شہری آبادی پر بھارتی گولہ باری بڑا المیہ ہے، ہم بھارت پر دبائو ڈالنے کیلئے اقوام متحدہ سے رابطہ میں ہیں اور مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہری آبادی پر گولہ باری روکی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اب ایسی نہج پر ہے کہ ساری دنیا کشمیر کی طرف دیکھ رہی ہے، ہم نئی امریکی انتظامیہ سے بھی اس سلسلہ میں بات کریں گے اور زور دیں گے کہ بھارت پر دبائو ڈالا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بڑی بہادری سے بھارتی ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 فروری کو میں کوٹلی میں جلسہ سے خطاب کروں گا اور اپنے شہریوں کے حوصلے بلند کروں گا۔ زمین پر قبضہ سے متعلق ایک شہری کی شکایت کے جواب میں وزیراعظم نے اپنے سٹاف کو ہدایت کی کہ اس شکایت کو نوٹ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قبضہ گروپوں کے خلاف حکومت نے اعلان جنگ کر دیا ہے، طاقتور لوگوں کی پشت پناہی سے سرکاری اور نجی املاک پر قبضے ہوتے ہیں، بڑی جماعتوں نے قبضہ گروپ پالے ہوئے تھے جو جلسے کرنے کیلئے بھی پیسے دیتے تھے اور بڑے لیڈروں کی اے ٹی ایم مشینیں بنے ہوئے تھے اور ان کی پشت پناہی سے قبضے کرتے تھے، کئی وزیر خود قبضہ گروپ تھے، پولیس اور انتظامیہ جب دیکھتی تھیں کہ وزیراعظم اور وزیر خود قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو یہ بھی قبضے کرنے میں لگ جاتے تھے، انتظامیہ اور پولیس مل کر شریف لوگوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کر لیتے تھے اب ہم نے قبضہ گروپوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور تمام سرکاری زمینوں کا ریکارڈ دیکھ رہے ہیں اور قبضہ گروپوں سے زمینیں واگزار کرائی جائیں گی، قانونی نظام میں بھی اصلاحات لا رہے ہیں، نیا قانون لائیں گے جس کے تحت ایک سال میں فیصلہ ہو گا کیونکہ پہلے برسوں تک ایسے کیسوں کے فیصلے نہیں ہوتے تھے، بڑے بڑے لوگوں سے سرکاری زمینیں واگزار کرائی جائیں گی اور بڑے بڑے ناجائز محل گرائے جائیں گے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی زمین پر قبضے کی شکایت وزیراعظم پورٹل پر کریں۔

0 views0 comments

Subscribe to 24Newspk

Its all about urdu news

  • Twitter
  • Facebook
  • Linkedin

© 2021 by 24newspk.com all rights reserved