• 24newspk

“یہ ننھی بچی اپنے خاندان کی واحد زندہ رکن ہے” کرکٹر راشد خان نے افغانستان زلزلے سے متاثرہ بچی کی

کی کہانی شیئر کر دی

ویب ڈیسک (24 نیوز پی کے) افغانستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر راشد خان نے زلزلے سے متاثرہ بچی کی کہانی شیئر کردی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک چھوٹی بچی کی تصویر شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ننھی بچی اپنے خاندان کی واحد زندہ رکن ہے۔راشد خان نے کہا کہ حکام اس کے خاندان کے کسی دوسرے فرد کو تلاش نہیں کر سکے ہیں۔




انہوں نے یہ بھی لکھا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں، بہت سے لوگ ملبے تلے اور دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 6 اعشاریہ 1 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں اب تک 1000 سے زائد افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق 6 اعشاریہ 1 شدت کا یہ زلزلہ خوست سے تقریباً 44 کلومیٹر (27 میل) کے فاصلے پر 51 کلو میٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔اطلاعات کے مطابق ایک ہی خاندان کے 19 فراد ہلاک ہو گئے ۔ متاثر افراد کے لئے امداد کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان نے امدادی سامان افغانستان بھیج دیا ہے اس کے علاوہ قطر سے بھی ایک طیارہ سامان لے کر پہنچا ہے۔



Afghanistan cricket team star all-rounder Rashid Khan shared the story of the girl affected by the earthquake.The social networking site has shared a picture of a little girl on Twitter, in which she wrote that this little girl is the only living member of her family.


Authorities have not been able to locate any other members of his family, Rashid Khan said.

He also wrote that many houses have collapsed due to landslides, many people are trapped under the rubble and in remote areas.


A magnitude 6.1 earthquake has shaken Afghanistan, killing at least 1,000 people and injuring 1,500.

According to the foreign news agency, the magnitude 6.1 earthquake had struck at a depth of 51 km at a distance of about 44 km (27 miles) from Khost.According to reports, 19 members of the same family were killed. Relief work continues for the affected people and Pakistan has sent relief supplies to Afghanistan. In addition, a plane carrying supplies has also arrived from Qatar.

44 views0 comments